لاہور (نیوزڈیسک )کچھ والدین بچوں کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ ایسے والدین عام طور پر بچوں کو اپنی محبت، شفقت سے مجبور ہوکے پروں میں چھپا کے رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ رویہ بچوں کو شائد محفوظ تو رکھے تاہم ان کی جسمانی و ذہنی نشونما پر جس قدر منفی اثرات مرتب کرتا ہے، وہ انہیں اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتا ہے جس کا خطرہ کہ گھروں سے باہر نکلنے والے بچوں کو ممکنہ طور پر لاحق ہوتا ہے۔ مائیکل انگر ڈلہوزی یونیورسٹی کے پروفیسر اور فیملی تھراپسٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ والدین کے اس رویئے کو سو فیصد مسترد تو نہیں کیا جاسکتا ہے تاہم یہ رویہ ان کے بچوں کیلئے زیادہ صحت مند بھی نہیں ہے۔ درحقیقت گیارہ برس سے کم عمر بچوں کے والدین کی نگرانی میں کھیلنے کا عمل ممکنہ طور پر ان کے زخمی ہونے کے خطرات کو کم کرتا ہو تاہم اس رجحان کے مددگار ثابت ہونے کا ثبوت بہت کم ہی ملتا ہے۔ اس عمر سے بڑے بچوں کی جب نگرانی کی جائے تو اس سے ان کے اندر تجزیاتی اور تنقیدی صلاحیتیں جو کہ ان کی آئندہ اور عملی زندگی کیلئے بے حد ضروری ہوتی ہیں ، نشونما پانے سے محروم رہ جاتی ہیں ۔ ایسی مہارتیں انہیں خطرناک صورتحال میں محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ والدین اپنے بچوں کی نگرانی کرنا چھوڑ دیں۔ خاص کر اگر بچے ایسے محلے میں رہتے ہیں جہاں کے بڑے لڑکے انہیں تنگ کرتے ہیں یا پھر وہ نسلی تعصب کا نشانہ بن سکتے ہیں تو ایسے میں ضروری ہے کہ وہ والدین کی نگرانی میں گھر سے باہر کھیلیں۔
اس کے برعکس اگر آپ ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں بچوں کو اس قسم کے خطرات لاحق نہیں، وہاں بچوں کیلئے ضروری ہے کہ انہیں زبردستی گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا جائے۔ بچوں کی جانب سے سو فیصد آنکھیں بھی بند نہ کریں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آپ کھیل کے میدان یا وہ سڑک جہاں پر وہ کھیلتے ہیں، وہیں ڈیرہ ڈال لیں۔ گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں بچے بیٹھنے کے بجائے بھاگنے دوڑنے والے کھیلوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ کچھ والدین بچوں کے اس طرح بھاگنے دوڑنے والے کھیلوں پر بھی اعتراض کرتے ہیں تاہم یاد رکھیں کہ گاڑی کے اندر بیٹھے بچوں کے حادثے کی صورت میں مرنے کے ان بچوں سے آٹھ گنا زیادہ امکانات ہوتے ہیں جو کہ سڑکوں پر کھیلتے اور کسی گاڑی کے نیچے آنے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔
گھروں کے اندر بچوں کو مقید کرنے کی صورت میں بچے صحت کے حوالے سے ان گنت خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔وہ غیر ضروری حد تک ٹی وی، کمپیوٹر یا ویڈیو گیمز کے آگے جمے رہ سکتے ہیں۔ بار بار اور غیر صحت مند اشیا کھانے کی جانب ان کی توجہ بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے جسمانی سرگرمیوں کی رفتار بھی کم ہوجاتی ہے جبکہ معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور سماجی ذمہ داری کا احساس بھی منٹنے لگتا ہے۔ یاد رکھیں کہ بچوں میں ہسپتال داخل ہونے اور انزائٹی کا شکار ہونے کے حوالے سے ایک حالیہ تحقیق میں ثابت کیا جاچکا ہے کہ بچوں کو جسمانی طور پر سرگرم ہونے سے روکنا ہی ان کے اندر ذہنی تنا میں اضافے کا سبب ہے۔
بچے گھروں میں نہیں باہرزیادہ محفوظ ہیں،ماہرین
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































