ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

دل ہو تو ایسا ،اس بوڑھے شخص نے اپنا خون دے کر 20 لاکھ بچوں کی جان بچائی

datetime 11  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )دنیا میں فلاحی ورکرز کی طرف سے عوامی بہبود کے کاموں کی کئی اعلیٰ مثالیں موجود ہیں لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جو زندگی بھر اپنا نایاب خون دے کر نوزائیدہ بچوں کی جانیں بچاتا رہا اور اب تک 20لاکھ بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچا چکا ہے۔78سالہ آسٹریلوی شہری جیمز ہیریسن کے جسم میں ایسا نایاب خون ہے جس میں اینٹی باڈیز کی وہ قسم پائی جاتی ہے جو بچوں کو آرایچ فیکٹر کے ہاتھوں مرنے سے بچاتی ہیں۔ جیمز 18سال کے تھے جب سے وہ اپنے خون کا عطیہ دے رہے ہیں اور اس وقت ان کی عمر 78سال ہے، اب تک وہ ایک ہزار سے زائد خون کے عطیات دے چکے ہیں۔ جب جیمز نے خون کے عطیات دینا شروع کیے تو ان کے خون کو اس قدر قیمتی سمجھا گیا کہ ان کی 10لاکھ آسٹریلوی ڈالر کی لائف انشورنس کروائی گئی۔ان کے نایاب خون کی وجہ سے انہیں ”سونے کی بانہوں والا آدمی“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ 1951ء میں 14سال کی عمر میں جیمز کے سینے کا آپریشن ہوا اور ان کا ایک پھیپھڑا نکال دیا گیا۔ جیمز کہتے ہیں کہ جب مجھے آپریشن تھیٹر سے باہر لایا گیا تو میرے والد نے مجھے بتایا کہ اجبنی لوگوں نے 13لیٹر خون دے کر میری جان بچائی ہے۔ تب میں نے تہیہ کیا کہ جب میری عمر 18سال ہو گی تو میں بلڈ ڈونر بنوں گا۔ جیمز نے اس دوران انکشاف کیا کہ ”اگرچہ میں ساری عمر خون کے عطیات دیئے ہیں لیکن میں نے کبھی خون نکالتے وقت سوئی اپنے بازو میں لگتے ہوئے نہیں دیکھی۔

مزید پڑھئے:چشتیا ں میں نجی ہسپتال میں عجیب الخلقت بچے کی پیدائش

جب نرس میرے بازو میں سوئی لگانے لگتی ہے تو میں نرس کی طرف دیکھتا رہتا ہوں یا پھر چھت پر لگے پنکھے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھ سے سوئی کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی اور میں اپنے جسم سے خون نکلتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے جو سکون دوسروں کو خون دے کر ان کی جانیں بچانے میں ملتا ہے میں اسے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…