ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سیلفی: ایسی بھی کیا مجبوری جواس شخص کو سولہ سال سے اس شوق ۔۔۔۔۔۔۔۔

datetime 9  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈ یسک )کیمرے والے موبائل فون عام ہونے کے بعد اپنی تصویر کھینچنے کا رجحان ( سیلفی کلچر) پروان چڑھنے لگا۔ گذشتہ چند برس کے دوران یہ ’ وبا‘ اتنی پھیل گئی ہے کہ عام ادمی سے لے کر سربراہان مملکت تک، کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکا۔الاسکا کا رہائشی جوناتھن کیلر پچھلے سولہ سال سے ہر روز اپنی تصویر کھینچ رہا ہے، جب سیلفی کا تصور بھی موجود نہیں تھا۔ جوناتھن نے اپنی ایک ویڈیو ریلیزکی ہے جو 5840 تصویروں کو ڈیجیٹل طریقے سے جوڑ کر بنائی گئی ہے۔ ساڑھے تین منٹ طویل ویڈیو کے اغاز پر بائیس سالہ نوجوان جوناتھن کا چہرہ دکھائی دیتا ہے جو اختتام پر ادھیڑ عمر چہرے میں بدل جاتا ہے۔جوناتھن نے ہر روز اپنے چہرے کی تصویر کھینچنے کا ا غاز یکم اکتوبر 1998ئ 4 کو کیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک وہ روزانہ سیلفی لیتا چلا ارہا ہے جس میں اس کا چہرہ تاثرات سے عاری دکھائی دیتا ہے۔ جوناتھن نے اپنی اس کاوش کو Living My Life Faster کا نام دے رکھا ہے۔امریکی شہری کے مطابق اس نے دانستہ اس منصوبے کی شروعات نہیں کی تھی، وہ بس اپنی دوست پر کوئی بات ثابت کرنا چاہتا تھا۔ اس بارے میں جوناتھن نے کیا،” ا?س روز میں نے ایک نیا ڈیجیٹل کیمرا خریدا تھا۔ دوست نے استفسار کیا کہ میں نے کیمرا کس مقصد سے خریدا ہے۔ میں نے کہا بس ایسے ہی لے لیا ہے، مگر وہ بہ ضد رہی کہ میں اصل بات بتاو¿ں، میں نے زچ ہوکر کہہ دیا میں ہرروزاپنی تصویر اتاروں گا۔اس نے کہا ٹھیک ہے مگر روز مجھے بھی تصویر دکھاو¿ گے۔ کچھ عرصے بعد ہماری راہیں ج?دا ہوگئیں مگر میں نے سیلفی لینے کا عمل جاری رکھا۔ کچھ عرصے کے بعد جوناتھن کو احساس ہوا کہ اس نے مذاقاً جو کام شروع کیا تھا، وہ دراصل اس کی زندگی کی ایک اہم دستاویز بن گیا ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے میں انے والی تبدیلیاں ریکارڈ ہوتی جارہی ہیں۔جوناتھن نے سولہ سال کے دوران کھینچی جانے والی تصاویر کو ویڈیو کی شکل میں جاری کردیا ہے مگروہ اخری سانس تک سیلفی لینے کا عمل جاری رکھنے کے لیے پ?رعزم ہے۔ سرپھرے کا کہنا ہے کہ موت کے ساتھ ہی اس کی زندگی کی اہم دستاویز مکمل ہوگی، مگر وہ اس کا اختتام دیکھ نہیں پائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…