اسلام آباد (نیوز ڈیسک )دنیا بھر میں ڈاکٹروں کی طرف سے کوتاہیوں کی خبریں ملتی رہتی ہیں لیکن پاکستانی لیڈی ڈاکٹر نے کمال کردیا اور خاتون کے جسم کے نازک حصے میں قینچی ہی چھوڑ دی جسے نکالنے کے لیے ایک ماہ بعد کینسر کی مریضہ کا دوبارہ آپریشن کرنا پڑا تاہم شکایت موصول ہونے پر ہسپتال انتظامیہ نے ایک کمیٹی قائم کرکے متاثرہ فیملی کا بیان ریکارڈ کرلیا۔
زارامرزانامی خاتون نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں بتایاکہ ا±ن کی والدہ کو ٹی اے ایچ اور بی ایس او ہائیسٹرکٹومی اور اومنٹکٹومی تھا جس کی وجہ سے ا±نہوں نے رواں سال 12فروری کو ڈو ہسپتال لے جایاگیاجہاں ڈاکٹرفوزیہ پروین نے بتایاکہ بچہ دانی کاکینسر ابتدائی سٹیج پر ہے اور جلد از جلد آپریشن کی حوصلہ افزائی کی ، آپریشن میں ڈاکٹرفوزیہ کے ہمراہ ڈاکٹرنعیم بھی تھے ، 16 فروری کو ہسپتال سے ڈسچارج ہوئیں تومتاثرہ حصے میں دردکی شکایت کرتی رہی اور چند دنوں میں یہ تکلیف بڑھتی چلی گئی۔ اگروہ معمولی سی بھی جھکتی توشدید دردہوتا،چھوٹا پیشاب کنٹرول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی چلی ، اگر وہ کنٹرول کرناچاہتی تو یہ تیز درد کاسبب بنتا۔ زارامرزا نے لکھاکہ اس تکلیف پر اہلخانہ نے سمجھاکہ آپریشن کے بعد کا درد ہے،اور اس سے نجات کے لیے دردکش ادویات استعمال کرتے رہے۔ آپریشن کے ایک ماہ کے بعد کینسر کاعلاج شروع ہوگیااورا±ن کی والدہ کو تیسرے درجے کا مریض قراردیاگیااور چھ ماہ کا علاج بتایا۔ گذشتہ ہفتے ڈاکٹر نے بیماری کی تازہ صورتحال جانچنے کے لیے سی ٹی سکین اور دیگر متعلقہ ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کی ، جب ٹیسٹ کرائے تو ایساانکشاف ہواجس کی ہم توقع نہیں کررہے تھے۔ خاتون کے جسم کے نازک حصے میں ایک قینچی موجود تھی جو ڈاکٹر آپریشن کے وقت بھول گئے تھے۔ یہ یورینری بلیڈر کیساتھ تھی اور ناف کی طرف بڑھ رہی تھی ،اس قینچی کا برآمد ہونا میرے اور میری والدہ کے لیے نہایت تشویشناک بات تھی جو پہلے ہی کینسر کے علاج کی وجہ سے کمزور ہوچکی تھی ،اس قابل نہیں تھی کہ قینچی نکالنے کے لیے دوبارہ آپریشن کرایاجائے۔ جب ڈوہسپتال کی انتظامیہ سے 23 مئی کو رابطہ کیاگیاتو ا±نہوں نے بتایاکہ بنیادی کردار ڈاکٹرفوزیہ پروین بیرون ملک ہیںاور26 مئی کی تاریخ دی گئی، پھر ڈاکٹرنعیم نے دوبارہ آپریشن کرکے قینچی نکالی۔زارااکبر نے لکھاکہ’ ہسپتال انتظامیہ کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیالیکن عدالتی نظام اور پولیس کی لوٹ مار کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے والد پیچھے ہٹ گئے ، میراکوئی بھائی نہیں ، میرے والد عدالتی معاملات میں نہیں الجھناچاہتے ،اورنہ ہی ان معاملات میں پڑنے کا وقت ہے ، ہم نے ڈو میں ڈاکٹر کے خلاف ایک درخواست دی جس پر کمیٹی نے ہمارابیان ریکارڈ کیا اور اپنی حمایت میں ایک مثبت فیصلے کے منتظر ہیں ‘۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سلسلے میں ڈوہسپتال کی انتظامیہ کا موقف سامنے نہیں آسکا اور نہ ہی خاتون نے باضابطہ طورپر ہسپتال کا موقف لکھا۔
کراچی : لیڈی ڈاکٹر مریضہ کے پیٹ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موبائل ایپ سے سستا پیٹرول حاصل کرنے کا طریقہ اور شرائط سامنے آگئیں
-
ہماری کمپنی کے 22 کروڑ ڈالر واجبات ادا کیے جائیں، چین کا مبینہ مطالبہ
-
ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو نقشے سے مٹا دیں گے، چینی تجزیہ کار کی اسرائیل کو وارننگ
-
پنجاب میں 94 غیر قانونی اور جعلی یونیورسٹیاں، فہرست سامنے آ گئی
-
خاتون ٹک ٹاکر سے مبینہ زیادتی کی کوشش، حکیم شہزاد لوہا پاڑ گرفتار
-
’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘
-
55 سالہ خاتون نے 25 سالہ شخص کو 2 ارب روپے تحفے میں دیکر اس سے شادی کرلی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد بڑی کمی
-
ایرانی ریال کی قدر میں جنگ کے باوجود بڑا اضافہ، وجہ سامنے آگئی
-
سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودیہ نے پاکستانی مسا فروں کیلئے اہم فیچرمتعارف کرادیا
-
بابا وانگا کی خوفناک پیشگوئیاں! حقیقت یا افواہ؟
-
عوام کے لیے بڑی خبر: نئی طرح کے میٹر متعارف کروانے کا فیصلہ
-
سام سنگ نے نئے گلیکسی فائیو جی اسمارٹ فونز متعارف کرا دیے
-
لاہور،رشتے سے انکار پر 9ویں جماعت کی طالبہ پر تیزاب پھینکنے والا مرکزی ملزم ہلاک



















































