جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

دو لاکھ ڈالر کا کمپیوٹر کوڑے میں۔۔۔

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

کیلیفورنیا(نیوزڈیسک)امریکا کی سیلیکون ویلی میں پرانی اَشیا کو ری سائیکل کرنے کا ایک مرکز ایک ایسی خاتون کو تلاش کر رہا ہے، جو ایپل کمپنی کا ایک ایسا پرانا کمپیوٹر وہاں پھینک گئی تھی، جس کی موجودہ مالیت دو لاکھ ڈالر بنتی ہے۔’ایپل وَن‘ کے نام سے ایپل کمپنی کے اسٹیو جابز، اسٹیو ووزنیاک اور رَون وین نے 1976ئ میں پہلی جنریشن کے دو سو کمپیوٹر بنائے گئے تھے ۔ ریاست کیلیفورنیا کے شہر ملپیٹاس سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ کیسے اس خاتون کی طرف سے کوڑے میں پھینکی جانے والی ایک چیز کسی اور کے لیے خزانے کی شکل اختیار کر گئی۔جرمنی اور یورپ سے کمپیوٹرز، پرنٹرز اور ایسے ہی دیگر پرانے آلات پر مشتمل سالانہ ہزارہا ٹن کوڑا غیر قانونی طور پر بھارت پہنچتا ہے، جسے وہاں ری سائیکل کیا یعنی دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس امریکی خاتون کا شوہر انتقال کر گیا تھا۔ ’کلین بے ایریا‘ نامی ری سائیکلنگ فرم کے نائب صدر وکٹر گائیچن نے بتایا کہ جب اس خاتون نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد اس کے گیراج کی صفائی کی اور الیکٹرانک آلات کے کچھ ڈبےّ وہاں سے اٹھا کر ری سائیکلنگ کے لیے اس فرم کے حوالے کر دیے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بیش قیمت کمپیوٹر بھی انہی ڈبوّں میں سے ایک کے اندر تھا۔ری سائیکلنگ مرکز کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے نہ صرف اپنے ان ڈبّوں کے لیے کوئی رسید لینے سے انکار کر دیا تھا بلکہ وہ اپنا نام پتہ بھی چھوڑ کر نہیں گئی تھی۔ کئی ہفتے بعد جب اس مرکز میں ان ڈبوں کو کھول کر دیکھا گیا تو ان میں سے ایک میں ایپل وَن کمپیوٹر برآمد ہوا۔سان ہوزے مرکری نیوز کے مطابق ایپل کمپنی کے اسٹیو جابز، اسٹیو ووزنیاک اور رَون وین نے 1976ء میں پہلی جنریشن کے جو دو سو کمپیوٹر بنائے گئے تھے، یہ کمپیوٹر انہی میں سے ایک ہے۔سائیکلنگ فرم کے نائب صدر وکٹر گائیچن نے میڈیاکو بتایا:”ہمیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ ہم نے سوچا کہ یہ کوئی جعلی اپیل کمپیوٹر ہے۔“ری سائیکلنگ کا امریکی مرکز اب اس خاتون کو تلاش کر رہا ہے تاکہ ا±سے ا±س کے حصے کے ایک لاکھ ڈالر ادا کیے جا سکیں۔اس ری سائیکلنگ فرم نے اس ’ایپل وَن‘ کو نادر و نایاب مصنوعات جمع کرنے والے ایک نجی ادارے کے ہاتھ دو لاکھ ڈالر میں فروخت کر دیا ہے۔ اپنے کاروباری ضوابط کے تحت یہ فرم فروخت کی جانے والی اَشیائ کا پچاس فیصد اصل مالک کو دیتی ہے۔وکٹر گائیچن کے مطابق وہ بھی اس رقم کا نصف حصہ اس کمپیوٹر کی اصل مالکہ کو دینا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس اس کا نہ نام ہے اور نہ ہی پتہ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اِس خاتون کی شکل البتہ یاد ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ خاتون ان سے رابطہ کرے اور اپنا ایک لاکھ ڈالر کا چَیک لے جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…