ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بارودی سرنگ اورانسان میں ٹی بی کا پتا لگانے والے چوہے

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

برسلز(نیوزڈیسک) بیلجیم کی ایک تنظیم نے افریقی چوہوں کو تربیت فراہم کی ہے کہ اب وہ سونگھ کر بارودی سرنگوں کا پتا لگا سکتے ہیں اور صرف 20 منٹ میں 200 مربع میٹر کا علاقہ چھان سکتے ہیں جب کہ ایک تربیت یافتہ شخص کو آلات سمیت یہی کام کرنے میں 25 گھنٹے لگتے ہیں۔دنیا بھر میں سیکڑوں علاقے ایسے ہیں جو اب بھی بارودی سرنگوں سے اٹے ہوئے ہیں اور ان میں چھپی سرنگوں کو نکال کر تلف کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہرسال لوگوں کی ایک بڑی تعداد بارودی سرنگوں سے ہلاک یا معذورہوجاتی ہے۔ سال 2013 میں روزانہ اوسطاً 9 افراد بارودی سرنگوں سے ہلاک یا زخمی ہوئے اور اس وقت دنیا کے 72 ممالک میں بارودی سرنگوں کا مسئلہ موجود ہے۔صرف موزمبیق میں ایک جگہ پر دو چوہوں نے بہت کامیابی سے 41 بارودی سرنگوں کو پتا لگایا اور 93 ہزار 400 مربع میٹر کا علاقہ کلیئر کرالیا، اب تک کوئی بھی چوہا آپریشن میں نہیں مرا کیونکہ بارودی سرنگ کو پھٹنے کے لیے کم از کم 5 کلو وزنی دباو¿ درکار ہوتا ہے اور بڑے سے بڑے چوہے کا وزن صرف ڈیڑھ کلو ہوتا ہے۔ ان چوہوں کو پہلے بارودی سرنگیں سونگھا کر انہیں تریبت فراہم کی جاتی ہے اور اس کے بعد انہیں بارودی سرنگوں سے بھرے ہوئے میدانوں میں بھیجا جاتا ہے جب کہ ریٹائر ہونے کے بعد چوہوں کو ان کے قدرتی ماحول میں چھوڑدیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہی تنظیم چوہوں کو تربیت دے کر اس قابل بنارہی ہے کہ وہ تھوک کو سونگھ کو اس میں ٹی بی کے جراثیم کا پتا لگاسکیں اور اس میں بہت حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ افریقا میں کئے گئے تجربات میں ٹی بی کے مریضوں کا تھوک چوہوں کو سونگھایا گیا تو تربیت یافتہ چوہوں نے بہت کامیابی سے ٹی بی زدہ مریض کی جانب اشارہ کیا تاہم اس پر مزید تحقیق جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…