جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

شیرکوآزادکرنے کی درخواست مسترد

datetime 29  مئی‬‮  2015 |

راجستھان (نیوزڈیسک )بھارت کی ریاست راجستھان کی عدالت نے ایک آدم خور شیر کو آزاد کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔نو سالہ ’استاد‘ نامی شیر نے اس ماہ کے اوائل میں جانوروں کے لیے وسیعے رقبے پر بنائے گئے ایک پارک میں حملہ کر کے ایک محافظ سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد اسے چڑیا گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ شیر کو چڑیا گھر میں پنجرے میں بند کرنا بھارت کے جنگلی حیات کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔واضح رہے کہ دنیا میں شیروں کی 70 فیصد آبادی بھارت میں پائی جاتی ہے اور سنہ 2014 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں شیروں کی کل آبادی 2226 ہے۔’استاد‘ 99 ہزار ایکڑ پر محیط راتھنبور نیشنل پارک میں رہتا تھا جہاں سے اسے بےہوش کر کے چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک چڑیا گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔استاد پر اس ماہ کی آٹھ تاریخ کو پارک کے ایک 53 سالہ محافظ کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ اس پر سنہ 2010 میں ایک 23 سالہ مقامی شخص اور سنہ 2012 میں ایک 19 سالہ نوجوان کو ہلاک کرنے کا الزام بھی ہے۔استاد کو منتقل کرنے کے فیصلے کو غلط یا جلدبازی میں کیا ہوا فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔اس شیر کو اب اودے پور ضلعے کے چڑیا گھر کے ایک پنجرے میں بند کر کے رکھا گیا ہے جس کا رقبہ فٹبال کے میدان جتنا ہے۔راجستھان کی ہائی کورٹ میں اس شیر کی رہائی کے لیے درخواست دینے والے چندرامولیشوار سنگھ کا کہنا ہے کہ ’استاد کو انسانوں پر حملوں کی تحقیق کیے بغیر چڑیا گھر بھیجنے کا فیصلہ کیاگیا۔ اس کو منتقل کرنے کی اصل وجہ مقامی سیاحتی صنعت کا دباو¿ ہے جن کو ڈر ہے کہ آدم خور شیر کا سن کر سیاح علاقے کا رخ نہیں کریں گے۔‘راجستھان کی ہائی کورٹ نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’استاد کو منتقل کرنے کے فیصلے کو غلط یا جلدبازی میں کیا ہوا فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔‘دوسری جانب درخواست گزار چندرامولیشوار سنگھ نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے۔بھارت میں شیروں کی آبادی میں اضافے کے ساتھ جنگلی حیات کے لیے جگہ کم ہوئی ہے جس کی وجہ سے اکثر شیر آبادیوں میں آجاتے ہیں اور بعض اوقات انسانوں پر حملہ بھی کر دیتے ہیں۔واضع رہے کہ بھارت میں ہر سال 60 سے زیادہ افراد شیروں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…