ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

دلہنیں برائے فروخت، پاکستانیوں کا نیا کارنا مہ سامنے آگیا

datetime 28  مئی‬‮  2015 |
MyIndiaPictures.com

تاہم زیادہ تر واقعات میں لڑکیاں ہی نقصان اٹھاتی ہیں کیونکہ آخر میں وہ کسی اجنبی ملک میں تنہا رہ جاتی ہیں۔ حکام کے مطابق ان میں سے زیادہ تر لڑکیوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ایسے کرنے سے انہیں کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔برطانیہ کی جانب سے سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے کے بعد انسانی اسمگلنگ کے اس نئے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں انسداد جرائم کے ملکی ادارے کے مطابق برطانیہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے، جہاں مشرقی یورپ سے لڑکیاں لا کر شادی کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ دوسری جانب یورپی پولیس کے محکمے ’یورو پول‘ نے گزشتہ برس اسے ایک ہنگامی مسئلے کے طور پر شناخت کیا تھا۔ لٹویا میں تو یہ مسئلہ اس قدر سنگین ہو چکا ہے کہ حکومت کو لڑکیوں کو روکنے کے لیے ایک ہنگامی پروگرام تک شروع کرنا پڑا۔برطانوی حکام کے مطابق ملک میں ہر سال مقامی شہریوں سے جعلی شادی یا پیپر میرج کے ہزاروں واقعات ہوتے ہیں اور اس کے مقابلے میں مشرقی یورپ سے لائی جانے والی لڑکیوں سے شادی کرنے کے واقعات قدرے کم ہیں۔ اس سلسلے میں ایسے افراد زیادہ تر اسکاٹ لینڈ جانا پسند کرتے ہیں، جہاں کوئی بھی لڑکی 16 سال کی عمر میں ہی والدین کی اجازت کے بغیر شادی کر سکتی ہے۔ سماجی تنظیموں کے مطابق مشرقی یورپ سے اس مقصد کے لیے لائی جانے والی زیادہ تر لڑکیاں کلارا بالوگووا کی طرح انتہائی غریب ہوتی ہیں جبکہ اکثر غیر تعلیم یافتہ بھی ہوتی ہیں اور وہ مغربی یورپ میں رہنے کے لیے شادی کرنے تک پر راضی ہو جاتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…