منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

کوہِ ایلپس کی برف قطبِ جنوبی پر محفوظ

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

پیرس(نیوزڈیسک)سائنس دان برف کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچانے کے لیے قطبِ جنوبی پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ زمین کے سرد ترین مقام پر برف کے نمونے پہنچا کر انھیں محفوظ بنایا جا سکے۔کوہِ ایلپس پر سطح سمندر سے 4350 میٹر کی بلندی پر مون بلاں کی برف پوش چوٹی ایلپس کا فریزر معلوم ہوتی ہے۔ تاہم فرانس کے نیشنل سینٹرل برائے سائنٹیفک ریسرچ سے وابستہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کا درج حرارت بدل رہا ہے اور سنہ 2005 کے مقابلے میں درجہ حرارت میں ڈیڑھ سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔ریسرچ سینٹر سے وابستہ سائنس دان جیرمی چیپلز کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک غیر قطبی گلیشیئروں کا تعلق ہے تو عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے رواں صدی میں کئی گلیشیئر غائب ہو جائیں گے۔ بلندی پر موجود گلیشیئر بھی موسمِ گرما میں پگھلنے لگتے ہیں۔‘’ہم وہ واحد ادارہ ہیں جو ان گلیشیئروں کو محفوظ کر رہے ہیں جن کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ اگر آپ مونگھوں پر کام کرنا چاہتے ہیں یا سمندری حیات پر، تو صدیوں تک تحقیق کے لیے خام مواد ہمارے پاس موجود ہے۔‘ابھی تک گلیشیئروں کی برف کو کم مقدار میں اکٹھا کرنے کے بعد اس پر تحقیق ہو سکی ہے اور سنہ 2016 میں مون بلاں کے کول دو ڈو مقام کی برف قطبِ جنوبی میں ذخیرہ کی جائے گی۔فرانس اور اٹلی کے مشترکہ تحقیق مشن کے تحت گلیشیئر کے نمونوں کو قطب جنوبی میں پہنچانے سے قبل برف کے غار میں رکھا گیا ہے اور اس سرنگ نما فریزر میں درج? حرارت منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔گلیشیئر سے 130 میٹر لمبی اور دس سینٹی میٹر قطر کی برف کی سلاخیں نکالی گئی ہیں۔ٹیم نے برف کی تین سلاخیں کوہِ ایلپس اور تین اینڈیز سے نکالیں۔ ان میں سے دو دو سلاخیں قطبِ جنوبی پر بھیجی جائیں گی اور باقی ماندہ ایک، ایک سلاخ پر فرانس کی لیبارٹری میں تحقیق کی جائے گی۔گلیشیئر کی برف کے ان نمونوں کے ڈیٹا کی مدد سے سائنس دان اس قابل ہو سکیں گے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے ماڈل بنائیں، تاکہ مستقبل میں اس بارے میں جامع تحقیقات کی جا سکیں۔قطبین پر برف کی موجودگی کے آثار تو لاکھوں سال سے موجود ہیں لیکن پہاڑوں پر برف کی موجودگی کا پتہ 18 ہزار سال پہلے لگایا گیا تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق گلیشیئروں کے نزدیک آبادیاں زیادہ ہوتی ہیں اور صنعتی انقلاب کے بعد سے گلیشیئر خطرے سے دوچار ہیں۔سائنس دان جیرمی چیپلز نے کہا کہ آئس کورز یا برف کی سلاخوں کو قطبِ جنوبی میں زیادہ سے زیادہ ٹھنڈا رکھا جائے گا اور زمین پر قطبِ جنوبی یقینی طور پر قابلِ اعتماد فریزر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا دوسرا متبادل یہ تھا کہ ہم برف کو روایتی فریزر میں محفوظ کرتے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اگلی نسلوں کے لیے ہے، بالکل اسی طرح جیسے ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب ہم ہیں اور ان کے نتائج ہماری آنے والی نسلیں برداشت کریں گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…