پیرس(نیوزڈیسک)سائنس دان برف کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچانے کے لیے قطبِ جنوبی پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ زمین کے سرد ترین مقام پر برف کے نمونے پہنچا کر انھیں محفوظ بنایا جا سکے۔کوہِ ایلپس پر سطح سمندر سے 4350 میٹر کی بلندی پر مون بلاں کی برف پوش چوٹی ایلپس کا فریزر معلوم ہوتی ہے۔ تاہم فرانس کے نیشنل سینٹرل برائے سائنٹیفک ریسرچ سے وابستہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کا درج حرارت بدل رہا ہے اور سنہ 2005 کے مقابلے میں درجہ حرارت میں ڈیڑھ سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔ریسرچ سینٹر سے وابستہ سائنس دان جیرمی چیپلز کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک غیر قطبی گلیشیئروں کا تعلق ہے تو عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے رواں صدی میں کئی گلیشیئر غائب ہو جائیں گے۔ بلندی پر موجود گلیشیئر بھی موسمِ گرما میں پگھلنے لگتے ہیں۔‘’ہم وہ واحد ادارہ ہیں جو ان گلیشیئروں کو محفوظ کر رہے ہیں جن کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ اگر آپ مونگھوں پر کام کرنا چاہتے ہیں یا سمندری حیات پر، تو صدیوں تک تحقیق کے لیے خام مواد ہمارے پاس موجود ہے۔‘ابھی تک گلیشیئروں کی برف کو کم مقدار میں اکٹھا کرنے کے بعد اس پر تحقیق ہو سکی ہے اور سنہ 2016 میں مون بلاں کے کول دو ڈو مقام کی برف قطبِ جنوبی میں ذخیرہ کی جائے گی۔فرانس اور اٹلی کے مشترکہ تحقیق مشن کے تحت گلیشیئر کے نمونوں کو قطب جنوبی میں پہنچانے سے قبل برف کے غار میں رکھا گیا ہے اور اس سرنگ نما فریزر میں درج? حرارت منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔گلیشیئر سے 130 میٹر لمبی اور دس سینٹی میٹر قطر کی برف کی سلاخیں نکالی گئی ہیں۔ٹیم نے برف کی تین سلاخیں کوہِ ایلپس اور تین اینڈیز سے نکالیں۔ ان میں سے دو دو سلاخیں قطبِ جنوبی پر بھیجی جائیں گی اور باقی ماندہ ایک، ایک سلاخ پر فرانس کی لیبارٹری میں تحقیق کی جائے گی۔گلیشیئر کی برف کے ان نمونوں کے ڈیٹا کی مدد سے سائنس دان اس قابل ہو سکیں گے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے ماڈل بنائیں، تاکہ مستقبل میں اس بارے میں جامع تحقیقات کی جا سکیں۔قطبین پر برف کی موجودگی کے آثار تو لاکھوں سال سے موجود ہیں لیکن پہاڑوں پر برف کی موجودگی کا پتہ 18 ہزار سال پہلے لگایا گیا تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق گلیشیئروں کے نزدیک آبادیاں زیادہ ہوتی ہیں اور صنعتی انقلاب کے بعد سے گلیشیئر خطرے سے دوچار ہیں۔سائنس دان جیرمی چیپلز نے کہا کہ آئس کورز یا برف کی سلاخوں کو قطبِ جنوبی میں زیادہ سے زیادہ ٹھنڈا رکھا جائے گا اور زمین پر قطبِ جنوبی یقینی طور پر قابلِ اعتماد فریزر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا دوسرا متبادل یہ تھا کہ ہم برف کو روایتی فریزر میں محفوظ کرتے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اگلی نسلوں کے لیے ہے، بالکل اسی طرح جیسے ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب ہم ہیں اور ان کے نتائج ہماری آنے والی نسلیں برداشت کریں گی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موبائل ایپ سے سستا پیٹرول حاصل کرنے کا طریقہ اور شرائط سامنے آگئیں
-
ہماری کمپنی کے 22 کروڑ ڈالر واجبات ادا کیے جائیں، چین کا مبینہ مطالبہ
-
ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو نقشے سے مٹا دیں گے، چینی تجزیہ کار کی اسرائیل کو وارننگ
-
پنجاب میں 94 غیر قانونی اور جعلی یونیورسٹیاں، فہرست سامنے آ گئی
-
خاتون ٹک ٹاکر سے مبینہ زیادتی کی کوشش، حکیم شہزاد لوہا پاڑ گرفتار
-
’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘
-
55 سالہ خاتون نے 25 سالہ شخص کو 2 ارب روپے تحفے میں دیکر اس سے شادی کرلی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد بڑی کمی
-
ایرانی ریال کی قدر میں جنگ کے باوجود بڑا اضافہ، وجہ سامنے آگئی
-
بابا وانگا کی خوفناک پیشگوئیاں! حقیقت یا افواہ؟
-
سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودیہ نے پاکستانی مسا فروں کیلئے اہم فیچرمتعارف کرادیا
-
عوام کے لیے بڑی خبر: نئی طرح کے میٹر متعارف کروانے کا فیصلہ
-
سام سنگ نے نئے گلیکسی فائیو جی اسمارٹ فونز متعارف کرا دیے
-
سڑک اچانک پھٹی، کار خاتون ڈرائیور سمیت دھنس گئی!



















































