ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایسی خواتین جو شادی کا جوڑا چھوڑنے کو تیار نہیں

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )شادی کا جوڑا اکثر لاکھوں روپے میں بنایا جاتا ہے ،ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ شادی کا جوڑا ایک بار پہننے کے بعد اسے بیگ میں بند کردیا جاتا ہے اور ساری عمر نہیں پہنا جاتا۔یہ تمام کام پیسے کا ضیاع معلوم ہوتا ہے لیکن نیویارک کی کچھ خواتین نے اس رسم کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی شادی کے جوڑے دوبارہ استعمال کرکے دنیا کو ایک نیا پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی شادی کا جوڑا پہن کر بھی وہ گھر اور دفتر کے کام کر سکتی ہیں، باقی دنیا چاہے تو وہ بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائے۔بروکلین ،نیویارک کی رہنے والی رینڈی بونیکا نے 2013ءمیں شادی کی اور اس مقصد کے لئے دوہزارڈالر(دولاکھ روپے) کا جوڑا بنایا،شادی کے بعد اس نے سوچا کہ اب اس لباس کا کیا کیاجائے؟اس کا کہنا ہے کہ اس کے دل میں آیا کہ وہ اپنی بیٹی کے لئے یہ رکھ لے لیکن پھر سوچا کہ اس وقت تو اس کی بیٹی کبھی بھی یہ نہیں پہنے گی۔ پھر ایک دم اس کے دل میں آیا اور اس نے وہ لباس پہن کر اپنے دوستوں کو بلایا اور وہ تمام لوگ باہر گھومنے گئے اور خوب تصاویر بھی اتروائیں۔تب ہی اس کے دل میں آیا کہ کیوں نہ اس لباس کو بار بار پہنا جائے اور ساتھ ہی اس نے Trashed In The Dress نامی کمپنی کی بنیاد بھی رکھ دی۔ اب تک رینڈی نے یہ جوڑا 10 بار پہن لیا ہے اور اکثر یہ پہن کر بہت خوش بھی رہتی ہے،اس نے اپنے شادی کے جوڑے کی صحیح رقم وصول کرلی ہے۔اس کے ساتھ ہی اس نے باقی تنظیموں سے رابطہ کر کے اپنے پراجیکٹ کو آگے بڑھانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ جب اس کی باقی سہیلیاں بھی اس کے ساتھ اپنے اپنے شادی کے جوڑے پہن کر چلتی ہیں تو ٹورسٹ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں اور روک کر پوچھتے ہیں کہ ہم کیا کررہے ہیں ،جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ ہم شادی کے جوڑے دوبارہ پہننے کے بارے میں بات کررہے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…