منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایسی خواتین جو شادی کا جوڑا چھوڑنے کو تیار نہیں

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )شادی کا جوڑا اکثر لاکھوں روپے میں بنایا جاتا ہے ،ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ شادی کا جوڑا ایک بار پہننے کے بعد اسے بیگ میں بند کردیا جاتا ہے اور ساری عمر نہیں پہنا جاتا۔یہ تمام کام پیسے کا ضیاع معلوم ہوتا ہے لیکن نیویارک کی کچھ خواتین نے اس رسم کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی شادی کے جوڑے دوبارہ استعمال کرکے دنیا کو ایک نیا پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی شادی کا جوڑا پہن کر بھی وہ گھر اور دفتر کے کام کر سکتی ہیں، باقی دنیا چاہے تو وہ بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائے۔بروکلین ،نیویارک کی رہنے والی رینڈی بونیکا نے 2013ءمیں شادی کی اور اس مقصد کے لئے دوہزارڈالر(دولاکھ روپے) کا جوڑا بنایا،شادی کے بعد اس نے سوچا کہ اب اس لباس کا کیا کیاجائے؟اس کا کہنا ہے کہ اس کے دل میں آیا کہ وہ اپنی بیٹی کے لئے یہ رکھ لے لیکن پھر سوچا کہ اس وقت تو اس کی بیٹی کبھی بھی یہ نہیں پہنے گی۔ پھر ایک دم اس کے دل میں آیا اور اس نے وہ لباس پہن کر اپنے دوستوں کو بلایا اور وہ تمام لوگ باہر گھومنے گئے اور خوب تصاویر بھی اتروائیں۔تب ہی اس کے دل میں آیا کہ کیوں نہ اس لباس کو بار بار پہنا جائے اور ساتھ ہی اس نے Trashed In The Dress نامی کمپنی کی بنیاد بھی رکھ دی۔ اب تک رینڈی نے یہ جوڑا 10 بار پہن لیا ہے اور اکثر یہ پہن کر بہت خوش بھی رہتی ہے،اس نے اپنے شادی کے جوڑے کی صحیح رقم وصول کرلی ہے۔اس کے ساتھ ہی اس نے باقی تنظیموں سے رابطہ کر کے اپنے پراجیکٹ کو آگے بڑھانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ جب اس کی باقی سہیلیاں بھی اس کے ساتھ اپنے اپنے شادی کے جوڑے پہن کر چلتی ہیں تو ٹورسٹ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں اور روک کر پوچھتے ہیں کہ ہم کیا کررہے ہیں ،جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ ہم شادی کے جوڑے دوبارہ پہننے کے بارے میں بات کررہے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…