اسلام آباد (نیوز ڈیسک )جاپان میں ایک مرد کو اپنی بیوی سے اتنی نفرت تھی کہ اس نے موت کے بعد بیوی کی راکھ قبر میں دفنانے کی بجائے ایک سپر مارکیٹ کے ٹائلٹ میں بہا دی۔ لیکن بعد میں وہ اپنے کیے پر اتنا شرمندہ ہوا کہ خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ٹوکیو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق جاپانی پولیس نے آج اتوار 24 مئی کے روز بتایا کہ اس جاپانی شہری کی عمر 68 برس ہے اور اسے اپنی بیوی سے شدید نفرت تھی۔ اپریل کے مہینے میں جب اس کی اہلیہ انتقال کر گئی تو آخری رسومات کے ایک مرحلے میں اس کی لاش کو جلا دیا گیا تاکہ اس کی راکھ کو دفنایا یا ہوا میں بکھیرا جا سکے۔اس خاتون کا شوہر بیوی کی راکھ لے کر اس کی تدفین کا بندوبست کرنے کی بجائے سیدھا ملکی دارالحکومت ٹوکیو کی ایک سپر مارکیٹ میں گیا، جہاں اس نے ان باقیات کو ایک پبلک ٹائلٹ میں بہا دیا۔ اس دوران زیادہ تر راکھ تو پانی کے ساتھ بہہ گئی لیکن ملزم کی بیوی کی کچھ ہڈیوں کی باقیات کو، جن میں چند دانت اور ٹھوڑی کی ہڈی بھی شامل تھے، فلش نہ کیا جا سکا تھا۔ اس پر ملزم تو موقع سے فرار ہو گیا تھا لیکن سپر مارکیٹ میں صفائی کے ذمے دار عملے نے پولیس کو اطلاع کر دی تھی۔جاپانی روزنامے یومی ی?وری شِمب?ون نے آج لکھا کہ پولیس اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مسلسل چھان بین کے باوجود قریب چار ہفتوں تک اس بارے میں حقائق کا حتمی تعین نہ کر سکی کہ سپر مارکیٹ کے بیت الخلاء4 سے ملنے والی جسمانی باقیات کس کی تھیں۔ اس جرم کی وضاحت ملزم کے خود کو پولیس کے سامنے پیش کرنے پر ہی ہو سکی کہ اصل ماجرا کیا تھا۔اس جاپانی روزنامے نے آج لکھا کہ ملزم کے لیے عشروں پہلے اس کی شادی ایک ناخوشگوار تجربہ ثابت ہوئی تھی اور اسے اپنی بیوی سے نفرت تھی، جس کا انتقال 64 برس کی عمر میں بیماری کی وجہ سے ہوا تھا۔ ملزم نے پولیس کو بتایا، ”میرے اندر اپنی بیوی سے نفرت مسلسل بڑھتی رہی تھی۔ میں نے اپنی بیوی کے انتقال سے پہلے کی زندگی بڑی تکلیف میں گزاری۔“
لیکن بیوی کی لاش نذر آتش کیے جانے کے فوری بعد اس کی راکھ کے ساتھ ’ایسا سلوک‘ کرنے پر ملزم مسلسل احساس جرم کا شکار رہا اور اس نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ بھی اسی ندامت سے نکلنے کے لیے کیا۔ٹوکیو پولیس نے ملزم کی شناخت ظاہر کیے بغیر ریاستی دفتر استغاثہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا ملزم کے خلاف کسی انسانی جسم کو لاپرواہی سے کسی جگہ دانستہ چھوڑ دینے کے الزام میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتقال کر جانے والے کسی انسان کی لاش کا بھی اس کی حتمی تدفین سے پہلے اتنا ہی احترام کیا جانا چاہیے جتنا کہ اس کی راکھ کا۔ جاپانی قانون کے مطابق کسی انسان کی راکھ صرف پہلے سے منظور شدہ کسی جگہ پر ہی دفن کی یا ہوا میں بکھیری جا سکتی ہے۔
بیوی کی موت کے بعد بیوی کی راکھ ایک سپر مارکیٹ کے ۔۔۔۔۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موبائل ایپ سے سستا پیٹرول حاصل کرنے کا طریقہ اور شرائط سامنے آگئیں
-
ہماری کمپنی کے 22 کروڑ ڈالر واجبات ادا کیے جائیں، چین کا مبینہ مطالبہ
-
ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو نقشے سے مٹا دیں گے، چینی تجزیہ کار کی اسرائیل کو وارننگ
-
پنجاب میں 94 غیر قانونی اور جعلی یونیورسٹیاں، فہرست سامنے آ گئی
-
خاتون ٹک ٹاکر سے مبینہ زیادتی کی کوشش، حکیم شہزاد لوہا پاڑ گرفتار
-
’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘
-
55 سالہ خاتون نے 25 سالہ شخص کو 2 ارب روپے تحفے میں دیکر اس سے شادی کرلی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد بڑی کمی
-
ایرانی ریال کی قدر میں جنگ کے باوجود بڑا اضافہ، وجہ سامنے آگئی
-
بابا وانگا کی خوفناک پیشگوئیاں! حقیقت یا افواہ؟
-
سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودیہ نے پاکستانی مسا فروں کیلئے اہم فیچرمتعارف کرادیا
-
عوام کے لیے بڑی خبر: نئی طرح کے میٹر متعارف کروانے کا فیصلہ
-
سام سنگ نے نئے گلیکسی فائیو جی اسمارٹ فونز متعارف کرا دیے
-
سڑک اچانک پھٹی، کار خاتون ڈرائیور سمیت دھنس گئی!



















































