ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

غزہ بے روز گار نوجوان کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعے پیسہ کمانے میں مصروف

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) غزہ پٹی کے صرف چالیس کلومیٹر طویل اور دَس کلومیٹر چوڑے علاقے میں اٹھارہ لاکھ فلسطینی ایک طرح سے قید میں ہیں۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب غزہ کے کئی شہری کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعے پیسہ کمانے میں مصروف ہیں۔ غزہ کے ہیکرز نے بتایا کہ اگر داو¿ اچھا لگ جائے تو کئی ہیکر پچاس ہزار ڈالر ماہانہ تک بھی کما لیتے ہیں غزہ پٹی میں بے روزگاری کی شرح پچاس فیصد ہے اور ملازمتیں ملنا انتہائی مشکل ہے۔ ایسے میں کمپیوٹر کی مہارت رکھنے والے فلسطینیوں نے پیسہ کمانے کا ایک نیا ذریعہ تلاش کر لیا ہے۔یہ لوگ زیادہ تر انٹرنیٹ کے ذریعے کی جانے والی ٹیلیفون کالوں کو ہیک کرتے ہیں۔ یہ وہ فون کالز ہیں، جو وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (VoIP) کے ذریعے گزشتہ چند برسوں سے باقاعدگی کے ساتھ کی جانے لگی ہیں۔نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ایک جائزے میں بتایا ہے کہ وائپ نیٹ ورکس کو ہیک کرنے کے کئی طریقے ہیں تاہم غزہ میں اس طرح کی ہیکنگ سے واقف لوگ بتاتے ہیں کہ ہیکرز مخصوص سرورز کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ آئی پی (IP) پتے حاصل کرتے ہیں۔ ا±ن کی کوشش ہوتی ہے کہ خاص طور پر بڑے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں کے پتے حاصل کریں۔ان پتوں کے حصول کے بعد ممکنہ آئی ڈی (صارف کا نام) اور پاس ورڈ آزمانے کا ایک صبر آزما مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ چونکہ لوگوں کو ڈیفالٹ کوائف بدل دینے کی زیادہ عادت نہیں ہوتی، اس لیے اِ? ہیکرز کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا اور وہ جلد ہی ان اکاو¿نٹس تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے، جب یہ اکاو¿نٹ اور اس سے جڑی رقم پوری طرح سے ہیکر کے کنٹرول میں چلی جاتی ہے۔غزہ میں بیروزگار نوجوانوں کی شرح پچاس فیصد تک پہنچی ہوئی ہے: آخر ہم کریں کیا؟ مر جائیں یا پھر زندہ رہنے کا کوئی طریقہ تلاش کریں؟ تب یہ ہیکرز یا تو اپنی معلومات کسی تیسری پارٹی کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں، جو عام طور پر قانونی طریقے سے کاروبار کرنے والی کوئی کمپنی ہوتی ہے اور یا پھر وہ وائپ استعمال کرنے والے کسی اور فریق کو بیچ دیتے ہیں اور الیکٹرانک ٹرانسفر کے ذریعے اپنی رقم وصول کر لیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…