ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

نو بال پر آوٹ۔۔۔۔

datetime 20  مئی‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک ) انگلینڈ کے ایک ایمیچر بلے باز نو بال ہینڈل کرنے پر آوٹ دینے جانے والے تاریخ کے پہلے بلے باز بن گئے۔ایک برطانوی اخبارکی رپورٹ کے مطابق 35 سالہ برائن ڈربی شائر ہیمشائر میں لیمنگٹن کیلئے بیٹنگ کر رہے تھے جب امپائر نے باولر کو کریز سے باہر نکل کر گیند کرانے پر نو بال کا اشارہ دیا۔ڈربی شائر نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی لیکن گیند ان کے بلے سے پوری طرح نہیں ٹکرائی۔ اس پر ڈربی شائر نے گیند اٹھا کر ایک فیلڈر کی جانب اچھال دی ، جس پر فیلڈنگ ٹیم نے اپیل کی اور امپائر نے آو¿ٹ قرار دے دیا۔مارلی بون کرکٹ کلب (ایم سی سی )کے کرکٹ قوانین کی شق 33 کے تحت ڈربی شائر کو گیند اٹھا کر دینے سے پہلے کسی بھی فیلڈر سے اجازت لینا ضروری تھا۔نو بال پر بلے باز بولڈ، کیچ یا پھر ایل بی ڈبلیو تو نہیں ہو سکتا ، تاہم، گیند اٹھانے، گیند کو دو مرتبہ ہٹ لگانے، فیلڈنگ میں مداخلت یا پھر رن آوٹ ہو سکتا ہے۔ایم سی سی کرکٹ قوانین کے مشیر مارک ویلئمز نے دی ٹائمز کو بتایا کہ نو بال سے متعلق قانون 24 کی شق 16 کے تحت تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی بلے باز کو اس انداز میں آوٹ دیا گیا۔’قانون کے تحت اگر فیلڈنگ ٹیم بلے باز کو رن آوٹ کرنےکی کوشش کر رہی ہو تو وہ جان بوجھ کو گیند کو چھو نہیں سکتا۔ اس معاملے میں فیلڈنگ ٹیم اپیل کرنے کی حق رکھتی تھی‘۔ڈربی شائر کے خیال میں امپائر نے غلط فیصلہ نہیں دیا البتہ حریف ٹیم نے غلط سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ ضرور کیا۔’میں نے دوسری ہی گیند پر ا س باولر کو ایک چھکا رسید کیا تھاشاید اسی وجہ سے وہ مجھے آوٹ دیکھنا چاہتے تھے‘۔اس میچ میں ڈربی شائر کی ٹیم 58 رنز سے شکست کھا گئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…