ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

وہ بندر جس نے خود کو پھانسی لگا کر مارڈالا پڑھئے ایک دلچسپ کہانی

datetime 18  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )کہتے ہیں کہ بلی اپنے تجسس کے ہاتھوں ماری جاتی ہے۔ بلیوں کے بارے میں نجانے یہ بات سچ ہے یا نہیں لیکن 1880ءمیں ایک امریکی بندر واقعی اپنے تجسس کے ہاتھوں مارا گیا۔جیرمی کلے ” ایک تحریر میں بتاتے ہیں کہ جوکو نامی ایک بندر اپنے مالک راک ویل سائروک کے ساتھ انیسویں صدی کے امریکا میں سرعام پھانسیوں کے مناظر دیکھنے کا شوقین تھا۔ وہ دونوں شہر شہر گھومتے اور مجرموں کی سرعام پھانسیوں سے لطف اندوز ہوتے۔ 1880ءکے موسم گرما میں ایک دن راک ویل اور جوکو ایک مجرم کی پھانسی کا منظر دیکھنے کے لئے بے تاب تھے کہ ریاست کے گورنر کے حکم پر پھانسی کچھ وقت کے لئے ملتوی کردی گئی۔ راک ویل وقت گزارنے کے لئے پھانسی گھاٹ کے قریب چلا گیا اور اس کا معائنہ شروع کردیا۔ جوکو اپنے مالک سے بھی زیادہ متجسس تھا اور اس نے پھانسی کے لئے کھڑے کئے گئے ستون اور اس کے ساتھ لٹکتے پھندے کا بغور مشاہدہ شروع کردیا۔ بالآخر مجرم کو لایا گیا اور پھندے سے لٹکا کر اس کی زندگی ختم کردی گئی۔ ایک اور پھانسی کے منظر سے لطف اندوز ہونے کے بعد دونوں گھر واپس آگئے لیکن اس دفعہ منفرد بات یہ تھی کہ جوکو پھانسی گھاٹ اور پھانسی کے عمل کا بغور مشاہدہ کرکے آیا تھا۔ جب راک ویل سونے کے لئے چلا گیا تو جوکو باڑے میں گیا اور اپنی پراسرار سرگرمی میں مصروف ہوگیا۔ اگلے دن راک ویل باڑے میں گیا تو جوکو کو چھت کے ستون کے ساتھ مردہ حالت میں لٹکتا ہوا پایا۔ بدقسمت بندر نے گزشتہ روز دیکھے گئے منظر کی تقلید کرتے ہوئے چھت کے ستون کے ساتھ کپڑے لٹکانے والی رسی کا پھندہ بنا کر خود کو لٹکا لیا تھا۔ اور یوں ہم انیسویں صدی کی عجیب و غریب ترین پھانسی کی کہانی کا اختتام کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…