منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

پینے کا پانی فراہم کرنے والی اے ٹی ایم

datetime 14  مئی‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک )پاکستانی صوبہ پنجاب میں ایک نئی اختراع متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ دراصل شمسی توانائی سے چلنے والی ایسی اے ٹی ایم مشینیں ہیں جن سے آپ اسمارٹ کارڈ اسکین کر کے پینے کا صاف پانی نکال سکتے ہیں۔پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک پروٹو ٹائپ مشین میڈیا کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ دو فٹ بلند یہ مشین اسمارٹ کارڈ کو اسکین کرنے کی صورت میں اے ٹی ایم مشین کی طرح پیسوں کی بجائے پانی فراہم کرتی ہے۔ لوگوں کو اس مقصد کے لیے کارڈ جاری کیے جائیں گے جن کی مدد سے وہ اپنا روزانہ کا کوٹہ حاصل کر سکیں گے۔یہ پراجیکٹ ’پنجاب کلین واٹر کمپنی‘ اور لاہور میں واقع ’انوویشن فار پوورٹی ایلیوی ایشن لیب‘ (IPAL) نامی ایک ریسرچ سنٹر کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس منصوبے کا مقصد صوبہ پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں میں بنائے جانے والے واٹر فلٹریشن پلانٹس کے ساتھ ایسی واٹر اے ٹی ایم مشینیں نصب کرنا ہے۔IPAL کے ایک پروگرام منیجر جواد عباسی کے مطابق اس مشین کا مقصد دراصل صاف پانی کے زیاں کو روکنے اور حکومت کی جانب سے لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔عباسی کے مطابق: ”پانی کی کوالٹی کو یقینی بنانے کے علاوہ یہ جدید مشین حکومت کی مدد کرے گی کہ کسی ایک خاص آبادی میں پینے کا صاف پانی کس قدر استعمال ہوا۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ پانی کی کوالٹی اور استعمال ہونے والی مقدار لگاتار آن لائن بذریعہ ایک مرکزی سرور موصول ہوتی رہے گی۔یہ کام کیسے کرتی ہے .جب کوئی شخص اپنا اسمارٹ کارڈ اس مشین میں داخل کرتا ہے تو اس کارڈ کی تصدیق کے بعد یہ مشین ایک آڈیو پیغام چلاتی ہے۔ اس کے بعد متعلقہ شخص مشین پر لگے سبز بٹن کو دبا کر پانی حاصل کر سکتا ہے۔ مطلوبہ مقدار پوری ہونے پر س±رخ بٹن دبا کر پانی کی ترسیل کو روکا جا سکتا ہے۔مشین میں لگے سینسرز یہ معلومات بھی جمع کرتے ہیں کہ ابھی کتنا صاف پانی موجود ہے .اس دوران پانی کے بہاو¿ کو ماپنے والا ایک میٹر مشین سے حاصل کیے جانے والے پانی کی مقدار کو نوٹ کرتا ہے جبکہ دیگر سینسرز یہ معلومات بھی جمع کرتے ہیں کہ ابھی کتنا صاف پانی موجود ہے۔پہلے مرحلے میں یہ مشیں پنجاب کے تین اضلاع میں نصب کی جائیں گی جن میں بہاولپور، راجن پور اور فیصل آباد شامل ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں زیر زمین پانی میں مضر صحت اجزائ کی مقدار کافی زیادہ ہے۔جواد عباسی کے مطابق ہر خاندان اپنے مخصوص کارڈ کے ذریعے روزانہ 30 لٹر پانی ان فلٹریشن پلانٹس سے حاصل کر سکتا ہے: ”ہم پہلے مرحلے میں 20 فلٹریشن پلانٹس کے ساتھ یہ مشینیں نصب کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس سے 17500 خاندان مستفید ہو سکیں گے۔“

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…