منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

پانی کے حق کے لیے تیس ہزار کلومیٹر کی ’واک‘

datetime 14  مئی‬‮  2015 |

برلن(نیوزڈیسک)ایک 49 سالہ جرمن شہری نے آج جمعرات کے روز تیس ہزار کلومیٹر پیدل چلنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ اپنے اِس اقدام سے پانی کی تقسیم اور رسائی کے مسئلے کو اجاگر کرنا چاہتا ہے۔جرمن شہری اسٹیفن فائفر کا تعلق جنوبی جرمن شہری فرائی برگ سے ہے اور وہ ایک فلاحی تنظیم ”واٹر از رائٹ “ نامی فاو¿نڈیشن سے وابستہ ہیں۔ ا±ن کا ادارہ دنیا بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور پانی تک تمام لوگوں تک مفت رسائی کے لیے سرگرم ہے۔ اپنے منصوبے کے بارے میں اسٹیفن فائفر کا کہنا تھا کہ وہ جمعے کے روز بذریعہ ہوائی جہاز فرینکفرٹ سے ناروے کے شہر نارتھ کیپ جائیں گے۔ یہ شمالی یورپ کا وہ آخری شہر ہے، جہاں سے بذریعہ سڑک یورپ کے رابطہ ممکن ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ا±ن کی اِس مہم کا نام ”واک فار واٹر“ ہے اور یہ تین سالوں پر محیط ہے۔’واٹر از رائٹ ‘ دنیا بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور پانی تک تمام لوگوں تک مفت رسائی کے لیے سرگرم ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ اِس طرح وہ صرف ارباب اختیار کی توجہ پانی کی مسئلے کی جانب مبذول نہیں کرانا چاہتے بلکہ وہ اِس مقصد کے لیے چندہ بھی جمع کرنے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”پانی تک ہمیشہ رسائی ہونی چاہیے اور یہ لوگوں کے ذہنوں میں ایک اہم کردار ادا کرے گا “۔واٹر از رائٹ فاو¿نڈیشن رالف اشٹالہوفن نے قائم کی تھی۔ اشٹالہوفن ایک معروف جرمن میوزک بینڈ ’سنز آف منہائم ‘ کے رکن ہیں۔ اشٹالہوفن کے بقول وہ چاہتے ہیں کہ 2025ئ تک دنیا کے تمام اسکولوں میں صرف پینے کا صاف پانی ہی دستیاب نہ ہو بلکہ تمام تعلیمی اداروں میں نکاسی آب کا موثر نظام بھی موجود ہو۔اسٹیفن فائفر اِس دوران تین مختلف براعظموں کے تیس سے زائد ممالک جائیں گے۔ ا±ن کا سفر ناروے سے شروع ہو گا جبکہ بعد میں وہ دیگر یورپی ممالک سے ہوتے ہوئے ترکی پہنچیں گے۔ اِسی طرح مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے وہ عمان جائیں گے اور ا±ن کے سفر کا اختتام جنوبی افریقہ میں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…