ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ظالم شوہر نے اپنی ہی بیوی کو پکا ڈالا

datetime 13  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)انسان کی ذہن پر جب شیطان قابض ہو جائے تو اسے اشرف المخلوقات کے بلند مرتبے سے گرا کر وحشی درندہ بنا دیتا ہے جو اپنے ہی ہم جنسوں کا گوشت کھانے سے بھی نہیں کتراتا۔آسٹریلیا کے شہر برسبین میں بھی ایک ایسا ہی اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک جنونی نے اپنی بیوی کو مارنے کے بعد اس کے جسم کے ٹکڑے کر کے اس کا گوشت پکا کر کھا لیا۔ علاقے میں الیکٹریشن کا کام کرنے والے بریڈ کوئن نامی شخص نے بتایا کہ اسے 28سالہ مارکس وولک کی کال موصول ہوئی کہ اس کا چولہا ٹھیک کام نہیں کر رہا۔ بریڈ جب مارکس کے گھر پہنچا تو اسے شدید بدبو کا سامنا کرنا پڑاجس پر مارکس نے اسے بتایا کہ وہ سور کا گوشت پکا رہا ہے۔ بعد ازاں ہمسایوں نے بھی شدید بدبو آنے پر پولیس کو اطلاع کر دی لیکن مجرم ان کے آنے سے پہلے ہی فرار ہو گیا۔ پولیس نے بتایا کہ گھر میں شدید بدبو تھی اور مقتولہ کے جسم کے کچھ اعضائ ابھی باقی تھے جب کہ زیادہ تر کو پکا لیا گیا تھا اور اس میں سے کچھ حصہ کھا بھی لیا گیا تھا۔ پولیس نے مجرم کی تلاش جاری رکھی تو کچھ گھنٹوں بعد قریبی علاقے سے اس کی لاش مل گئی۔

مزید پڑھئے:جیب میں مو بائل پھٹنے سے بارہ سالہ لڑکی زخمی ہو گئی/a>

بظاہر یوں لگتا ہے کہ مجرم نے اپنا گلا کاٹ کر خودکشی کی۔ پولیس کے مطابق وہ جسم فروشی کا کام کرتا تھا جبکہ اس کی 27سالہ بیوی کا تعلق بنیادی طور پر انڈونیشیا سے تھا۔ اس بھیانک جرم کے حقائق و اسباب جاننے کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔

news-1412782843-1798 (1)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…