اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) اگر آپ کی عمر چالیس برس سے زائد ہوچکی ہے تو خود کو ذہنی طور پر تیار کرلیں کیونکہ پچاس برس کی عمر تک پہنچنے پر آپ کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ برطانوی ماہرین نے اعداد و شمار کی روشنی میں دعویٰ کیا کہ درحقیقت پچاس برس کی عمر ہی وہ عمر ہوتی ہے جب آپ اپنی زندگی کا مہنگا ترین دور گزارتے ہیں اور اس دور میں اخراجات کو پورا کرنے کیلئے بسا اوقات قرضہ لینے کی نوبت بھی آجاتی ہے کیونکہ اس کے بغیر اخراجات پورے کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس عمر کے لوگ دیگر کسی بھی عمر کے لوگوں کے مقابلے میں چھٹیاں گزارنے اور سیر و تفریح پر سرمائے کا بڑا حصہ خرچ کرتے ہیں ، نیز وہ ریٹائرمنٹ سے قریب ہونے کے سبب اپنی دولت کا بڑا حصہ سرمایہ کاری اور بچت پروگراموں میں لگا دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر پچاس برس کی عمر کے جوڑوں کے اوسط سالانہ اخراجات 27ہزار پونڈ تک ہوتے ہیں۔ اس میں گھریلو اخراجات، ٹرانسپورٹ اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ تیس برس کی عمر والوں کے سالانہ اخراجات کے مقابلے میں یہ رقم چار ہزار پونڈ اضافی ہے جبکہ چالیس برس سے زائد والوں کے مقابلے میں ایک ہزار پونڈ زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق چالیس برس کی عمر کی حد پار کرتے ہی اخراجات میں تیزی آنا شروع ہوجاتی ہے جو کہ 49برس کی عمر تک جاری رہتی ہے۔ پچاس برس کی عمر میں اخراجات اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔60برس کی عمر میں سات ہزار سے بیس ہزار پونڈ کے بیچ گر جاتے ہیں۔ بہت سے افراد کے کیس میں ساٹھ کی عمر کو پہنچنے تک اخراجات میں کمی کی وجہ بچوں کا گھر چھوڑ دینا بنتی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے تعلیمی اخراجات میں بھی کمی ہوجاتی ہے اور چھٹیوں پر خرچ کی جانے والی رقم بھی کم ہوجاتی ہے۔ستر کی برس کو پہنچنے تک جوڑوں کے سالانہ اخراجات 18000پونڈ سالانہ کو پہنچ جاتے ہیں کیونکہ اس عمر تک اکثریت ریٹائر ہوچکی ہوتی ہے اور تعلیم چھٹیوں، گھریلو اخراجات حتیٰ کہ کرسمس پر بھی آنے والے اخراجات بھی کم ہوجاتے ہیں۔
اس رپورٹ کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پچاس کی دہائی میں موجود افراد”سینڈوچ جینریشن“ کا کردار نبھاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بڑھاپے کیلئے بھی سرمایہ کاری کررہے ہوتے ہیں اور اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی پورے کرتے ہیں۔ اس عمرمیں داخلے پر انسان کو اپنے بڑھاپے کی فکر بھی ستاتی ہے، ایسے میں اپنے بوڑھے رشتہ داروں کا خیال بھی ستانے لگتا ہے اور یوں ان کی کفالت کی بھی کسی حد تک ذمہ داری اٹھانے کا احساس بیدار ہوجاتا ہے۔ اس وقت انہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ان کے پاس اپنے مستقبل کیلئے پس انداز کرنے کیلئے بہت کم وقت رہ گیا ہوتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل جل کے پچاس کے پیٹے میں موجود افراد کے اخراجات کو بڑھا دیتے ہیں۔ اس رپورٹ کے اعداد و شمار مرتب کرنے کیلئے ماہرین نے دو ہزار بالغ افراد سے ان کے اخراجات کی تفصیل معلوم کی تھی۔
پچاس برس کا ہونا مہنگا پڑ سکتا ہے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موبائل ایپ سے سستا پیٹرول حاصل کرنے کا طریقہ اور شرائط سامنے آگئیں
-
ہماری کمپنی کے 22 کروڑ ڈالر واجبات ادا کیے جائیں، چین کا مبینہ مطالبہ
-
خاتون ٹک ٹاکر سے مبینہ زیادتی کی کوشش، حکیم شہزاد لوہا پاڑ گرفتار
-
ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو نقشے سے مٹا دیں گے، چینی تجزیہ کار کی اسرائیل کو وارننگ
-
پنجاب میں 94 غیر قانونی اور جعلی یونیورسٹیاں، فہرست سامنے آ گئی
-
’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘
-
55 سالہ خاتون نے 25 سالہ شخص کو 2 ارب روپے تحفے میں دیکر اس سے شادی کرلی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد بڑی کمی
-
ایرانی ریال کی قدر میں جنگ کے باوجود بڑا اضافہ، وجہ سامنے آگئی
-
بابا وانگا کی خوفناک پیشگوئیاں! حقیقت یا افواہ؟
-
سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودیہ نے پاکستانی مسا فروں کیلئے اہم فیچرمتعارف کرادیا
-
عوام کے لیے بڑی خبر: نئی طرح کے میٹر متعارف کروانے کا فیصلہ
-
سام سنگ نے نئے گلیکسی فائیو جی اسمارٹ فونز متعارف کرا دیے
-
سڑک اچانک پھٹی، کار خاتون ڈرائیور سمیت دھنس گئی!



















































