ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بیٹے کو امتحان میں پاس کرانے کے لئے باپ کو رشوت دینا مہنگا پڑگیا

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) جرمنی میں بیٹے کو امتحان میں پاس کرانے کے لئے ممتحن کو رشوت دینا باپ کو مہنگا پڑگیا۔جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق فرینکفرٹ میں ہائی اسکول کے آخری سال کا طالب علم ریاضی میں کافی کمزور تھا، طالب علم کے باپ نے اپنے بیٹے کے سالانہ امتحان کے وقت اسکول میں نصابی امور کے ڈائریکٹر کو 500 یورو کی رقم پیش کرتے ہوئے اس سے گزارش کی تھی کہ اس کے بیٹے کو ریاضی کے امتحان میں ہر حال میں پاس کردیا جائے۔سکول کے ڈائریکٹر نے اس بات کی اطلاع محکمہ تعلیم کو اطلاع کر دی اور معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔ مقامی عدالت نے رشوت دینے کی کوشش کرنے والے شخص 5ہزار 400 یورو جرمانہ کردیا۔ اتنی بڑی رقم کا جرمانے کے خلاف مذکورہ شخص نے دوسری عدالت میں اپیل کردی۔ جس نے جرمانے کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے اسے لازمی طور پر فلاحی اداروں کو کم از کم 2 ہزار یوروعطیہ کرنے کا حکم سنایا۔عدالت کی خاتون جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم کی جانب سے اسکول اہلکار کو رشوت دینے کی کوشش اس کے شرم ناک رویے کا ثبوت ہے، چونکہ ملزم اپنی حرکت پرشرمندہ ہے اس لئے فلاحی مق?اصد کے لیے دو ہزاریورو لازمی عطیہ ملزم کے لئے کافی ہے۔دوسری جانب رشوت کی پیشکش کے بارے میں متعلقہ اہلکار نے ملزم کے بیٹے کا ریاضی کا امتحان لینے والے اساتذہ کے گروپ کو نہیں بتایا تھا جس کی وجہ سے طالب علم کا معمول کے مطابق امتحان لیا گیا اور اس کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی وجہ سے ممتحن اساتذہ نے اسے اتفاق رائے سے فیل بھی کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…