منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکا کا ایسا پارک جہاں لوگوں کو ہیرے ملتے ہیں

datetime 29  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) امریکا میں ایک پارک ایسا بھی ہے جہاں جانے پر ہیرا مل سکتا ہے کیونکہ ایسا ہی کچھ ہوا ہے ایک خاتون کے ساتھ جو ڈائمنڈ اسٹیٹ پارک پہنچیں تو انہیں چمکتا ہوا ہیرے اپنی آنکھوں کے سامنے پڑا دکھا جسے حاصل کرکے ان کی خوش کی کوئی انتہا ہی نہ رہی۔امریکی ریاست آرکنساس کے اسٹیٹ ڈائمنڈ پارک کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ وہاں تھوڑی سی قیمت ادا کرکے ہیرا تلاش کرسکتے ہیں اوراکثر لوگ اس تلاش میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں، ایسی ہی خواہش لیے ایوننگ شیڈ شہر سے آئی کلارک نامی اس منفرد پارک میں پہنچیں تو ہیرے کی تلاش میں مصروف ہوگئیں۔ٓہیرے کی تلاش میں سرگرداں خاتون نے پارک میں کھدائی شروع کردی جس کے تھوڑی ہی دیر بعد ایک چمکتا ہوا ہیرا ان کی آنکھوں کے سامنے آگیا جسے دیکھ کر تو ان کی خوشی کی انتہا ہی نہ رہی جب کہ اس ہیرے کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ یہ ہیرا گزشتہ 2 سال میں اس پارک سے اب تک نکلنے والے ہیروں میں دوسرا بڑا ہیرا تھا جس کا وزن 3.69 کرات تھا۔ ایک سال قبل ایک اور خوش قسمت شخص کو 6.19 کرات کا سفید رنگ کا قیمتی ہیرا ہاتھ لگا تھا لیکن اس پارک سے صرف اس سال ایک 2 نہیں بلکہ 122 ہیرے لوگوں کے پاس جاچکے ہیں۔یہ منفرد کریکٹر آف ڈائمنڈ امریکی پارک 37 ایکٹر سے زائد رقبہ پر پھیلا ہوا ہے اور زمانہ قدیم میں زمین کے پھٹنے سے زمین میں موجود ہیرے پارک میں پھیل گئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمین کی سطح سے نیچے گم ہوگئے اور اب لوگ انہیں تلاش کر کے اپنی قسمت کو بدل رہے ہیں۔1972 میں حکومت نے اسے اسٹیٹ پارک کا درجہ دیا اورلوگوں کو آزادی دی کہ وہ تھوڑی سے قیمت ادا کر کے ہیرا تلاش کرسکتے ہیں اور جسے ملے گا وہی اس کا مالک ہوگا۔ پارک حکام کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا 40.23 کرات کا ہیرا 1924 میں ایک شخص کو ملا جب کہ 1990 میں قیمتی ترین ہیرا اسٹران وینگر انتظامیہ کو ملا جسے خوبصورتی سے تراش کر پارک کے وزیٹیئر سینٹر میں رکھ دیا گیا ہے جسے دیکھ کر لوگوں کا جوش اور بھی بڑھ جاتا ہے اوروہ پوری شدت سے ہیرے تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…