منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

لاشعوری طور پر کی گئی چند غلطیاں رشتوں کیخلاف زہر

datetime 29  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ہر فرد اپنے اطراف میں موجود لوگ یا وہ جنہیں وہ پسند کرتا ہے، ان کے ہمراہ خوش وخرم رہنا چاہتا ہے، اس کے باوجود بھی کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں ایسا ہوجاتا ہے جو کہ رشتے کو متاثر کرتا ہے، تعلقات میں دراڑ پیدا کرتا ہے اور ایک جوڑے کو ایک دوسرے سے دور کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا ہے کہ آپ اس کیلئے شعوری کوشش نہیں کرتے بلکہ درحقیقت آپ کی رشتہ بچانے کیلئے شعوری کوششوں کے ساتھ ساتھ لاشعوری طور پر کی گئی چند غلطیاں رشتے کیخلاف زہر قاتل کا سا کام کرتی ہیں۔ ذیل میں ایسی غلطیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ رشتے کو بگاڑنے کا باعث ہوتی ہیں تاہم اکثریت ان سے لاعلم ہوتی ہے۔
اگر آپ ایسا سوچتے ہیں کہ آپ اپنے رشتے کو خوشگوار بنانے کیلئے بے حد کوشش کررہے ہیں مگر چونکہ اس کے باوجود بھی آپ دونوں کے بیچ کسی نہ کسی وجہ سے اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں تو یہ یقینی طور پر آپ کے جیون ساتھی کی غلطیاں ہیں اور وہ کوشش نہیں کرتا ہے تو یہ غلط ہے۔ دوسروں کو مسائل کی وجہ سمجھنا یا دوسروں کو غلطی کیلئے ذمہ دار ٹھہرانے والا رویہ ہی آپ دونوں کو زیادہ ایک دوسرے سے دور کرتا ہے۔
مثل مشہور ہے کہ جس طرح تالی دونوں ہاتھوں سے بچتی ہے، اسی طرح رشتہ دو افراد مل کے ہی بچاتے ہیں تاہم کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق اس رشتے کو بچانے کیلئے اس قدر متحرک نہیں ہوتا ہے جتنا کہ دوسرا فرد ہوتا ہے یعنی کہ کوئی ایک رشتہ بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ کسی مسئلے کی صورت میں اسے دور کرنے کیلئے ہر قسم کی ذمہ داری لیتا ہے اور اسے دور کرتا ہے تاہم یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ دوسرے ساتھی کو اس رشتے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ایسے رشتے میں شامل ایک فرد جب ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک جاتا ہے تو اس رشتے کیلئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنتا ہے۔صحیح اور غلط کی تمیز اور اس کیلئے اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی ہونی چاہئے۔ میاں بیوی کے درمیان کبھی کبھار ایسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جہاں پر فریقوں میں سے ایک اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور کبھی کبھار اپنے موقف کو درست مانتے ہوئے اس پر ڈٹ جاتا ہے۔ وہ رشتے جن میں غلطیوں کا اعتراف کرنے کی ذمہ داری کسی ایک ہی فریق کی ہو اور دوسرا فریق ہمیشہ مسائل میں گھرا دیکھ کے دامن جھٹک کے علیحدہ ہوجائے تو یہ رشتے میں محبت سے زیادہ خودغرضی شامل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، ایسی کیفیت رشتے سے لطف و محبت کے جذبات کو ختم کردیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…