منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھارت کا وہ گاؤں جہاں زندہ لوگوں کو آگ میں بھونا جاتاہے،وجہ جا ن کر آپ کو بھی شدید غصہ آئے گا

datetime 25  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دنیا میں پائی جانے والی عجیب و غریب رسموں کے بارے میں تو آپ نے سن رکھا ہوگا لیکن بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ میں بیماریوں سے بچاﺅ اور خوش قسمتی کے حصول کے لئے لوگوں کو آگ کے شعلوں پر بھوننے کی رسم واقعی حیرت انگیز اور ناقابل یقین ہے۔

اس ریاست کے دور دراز دیہات میں ہر سال گیارہ روزہ میلہ منعقد کیا جاتا ہے جس کی سب سے اہم تقریب زندہ انسانوں کو دہکتے شعلوں کے اوپر لٹکانا ہے۔ اس رسم میں 10 سے 65 سال عمر کے افراد شرکت کرسکتے ہیں جن کے پیروں کو لکڑی کے ایک ستون سے باندھا جاتا ہے اور پھر انہیں دھیرے دھیرے بھڑکتے ہوئے شعلوں کے قریب لایا جاتا ہے۔ اس دوران ایک ہندو پنڈت منتر پڑھتے ہوئے آگ پر تیل ڈالتا ہے تاکہ اس کے شعلے مزید بھڑکیں۔  جریدے ”میل آن لائن“ کے مطابق تقریب میں شامل ایک 16 سالہ لڑکے ارون نائیک نے بتایا کہ یہ رسم نا صرف آگ پر جھولنے والے شخص کو ہر طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں سے پاک کردیتی ہے بلکہ گاﺅں کے لئے خوش قسمتی اور خوشحالی کا سبب بھی بنتی ہے۔ ریاست جھاڑ کھنڈ کے دیہاتی اسے قدرتی آفات مثلاً قحط، خشک سالی اور وبائی بیماریوں سے نجات کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔ رسم میں شرکت کرنے والوں کا عقیدہ ہے کہ دیوتا شیوا اور دیوی پاروتی ان کی حفاظت کرتے ہیں اور انہیں آگ کے شعلوں سے نقصان نہیں پہنچتا۔ اس رسم کو مقامی زبان میں چتیا منڈا پوجا کہا جاتا ہے اور اس میں شمولیت کے لئے جنوبی اور مشرقی بھارت کے دور دراز علاقوں سے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ رسم ہزاروں سال سے جاری ہے اور ماضی میں لوگوں کو جسم میں آہنی کنڈا ڈال کر آگ کے اوپر لٹکایا جاتا تھا مگر اب اس مقصد کے لئے لکڑی کا ستون استعمال کیا جاتا ہے جس کے ساتھ الٹا لٹکا کر لوگوں کو شعلوں کے قریب کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…