ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ٹوٹے رشتوں کو کیسے جوڑا جائے

datetime 25  اپریل‬‮  2015 |
Lonely sad girl with broken heart

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) منگنی ٹوٹے یا شادی یا پھر محض محبت کی کہانی المناک انجام سے دوچار ہوئی ہو، تکلیف ہر صورت میں اس فریق کو زیادہ ہوتی ہے جو کہ اس کیلئے تیار نہیں ہوتا اور فریق مخالف کی جانب سے یکدم رشتہ ختم کردینے کے فیصلے پر شاک کی کیفیت میں آجاتا ہے۔ جب حقیقت کا ادراک ہو تو پھر صورتحال مزید تکلیف دہ لگنے لگتی ہے۔ کسی ایسے شخص کو اپنی زندگی سے نکال دینا جس کا ہاتھ آخری سانس تک تھامے رکھنے کا وعدہ کیا ہو، وہ جب سفر کے شروع میں ہی ساتھ چھوڑ جائے تو خواب ٹوٹنے کا دکھ، ساتھ چھوٹنے کا دکھ اور نجانے کون کون سے دکھ کے نشتر گھائل روح کو مزید بے سکوں کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر ریلیشن شپ ایکسپرٹس کی رائے کو ذہن میں رکھا جائے تو حالات کو قابو میں کیا جاسکتا ہے اور ٹوٹی ہمتوں کو مجتمع کرتے ہوئے نئے سرے سے زندگی کا سفر شروع کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے مندرجہ ذیل اہم اقدام ضروری ہیں۔
سب سے پہلے تو ہر قسم کے رابطے منقطع کردیں۔ اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ سچ مچ اس دور سے باہر نکلنا چاہتی ہیں تو ایسے میں تعلق کو قائم رکھتے ہوئے ناممکن رہے گا کہ آپ کبھی اس دور سے باہر آسکیں۔ ہر فون کال، ہر مسج آپ کو دوبارہ اسی دور میں واپس لے جائے گا جس میںآپ دونوں کی ہسنتی بستی زندگی تھی۔ بہتر ہوگا کہ آپ نمبر بھی ڈیلیٹ کریں، تاکہ رابطے کی ہر صورت ختم ہو۔ اگر کسی وجہ سے آپ چاہتی ہیں کہ رابطے کی کوئی صورت برقرار رہے تو پھر ایسے میں نمبر ڈیلیٹ کرنے سے پہلے اپنی کسی سہیلی کو نمبر دیں تاہم اس سہیلی کو چاہئے کہ وہ آپ کے مانگنے پر یہ نمبر آپ کو نہ دے اور اسے محض انتہائی ضرورت کے عالم میں استعمال کیلئے محفوظ رکھے۔ خود سے وعدہ کریں کہ اگلے ایک ماہ تک اس بارے میں کسی دوست سے بات نہیں کریں گی۔ فیس بک پر بھی ان فالو کردیں گی۔ ایک ماہ بعد آپ کو خود ہی محسوس ہوگا کہ آپ کو اس کی ضرورت نہیں رہی۔
حقیقت پسند بنیں۔ کسی بھی تعلق کو قائم کرتے ہوئے اس کی متعدد خامیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تاہم جب رشتہ ختم ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس فرد میں موجود ہر خامی کو یاد کیا جائے اور ہر برائی کو کھوجا جائے۔ اس طرح اس فرد کے اچھے تاثر کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
تعلق ختم ہونے پر کبھی بھی خود کو غیر صحت مند غذاو¿ں کا عادی نہیں بنانا چاہئے۔ یہ غذائیں ، اس وقت نشے کی مانند مزید سے مزید تر کی طلب کا باعث بنتی ہیں اور پھر جسم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس دور میں اگر صحت مند غذائیں لی جائیں تو صحت بھی اچھی ہوگی اور تعلقات ختم ہونے کے منفی اثرات بھی نہیں پیدا ہوں گے۔
تعلق ختم ہونے پر خود کو مورد الزام کبھی مت ٹھہرائیں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ اس تعلق کوآپ نے نہیں انہوں نے ختم کیا ہے۔یہ آپ نہیں بلکہ ان کی بدقسمتی ہے کہ انہوں نے ایک حسین نعمت کو ٹھکرا دیا۔ کوشش کریں کہ ایسے افراد کی محفل میں بیٹھیں جن کے نزدیک آپ کی اہمیت ہو، اس طرح سے آپ کو صورتحال کو بہتر طور پر تجزیہ کرنے کا موقع بھی ملے گا اور یہ احساس بھی ہوگا کہ دنیا کو اور آپ کے اطراف میں موجود لوگوں کو آپ کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…