منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

بیوی پریشان شوہر ممانی کے پیار میں مبتلا

datetime 25  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )رشتوں کے تقدس کی اہمیت ختم ہونے سے جہاں معاشرے میں دیگر برائیاں جنم لے رہی ہیں، وہیں قدرت کے بنائے ہوئے مرد و عورت کے بیچ کے رشتے یعنی کہ ازدواجی تعلق کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال کینیڈا کی ایک خاتون کو درپیش ہے جن کے شوہر اپنی ممانی کے عشق میں گرفتار ہیں۔ مذکورہ خاتون نے اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر اپنا مسئلہ کینیڈا کے اشاعتی ادارے نیشنل پوسٹ کو ارسال کیا ہے۔خاتون اپنے مراسلے میں لکھتی ہیں کہ ان کے شوہر کو یہ عشق اس وقت ہوا جب وہ صرف16برس کے تھے اور ممانی کی عمر35برس تھی۔ خیال ہے کہ ممانی نے اپنے سسرالی بھانجے کی معصومیت کا فائدہ اٹھایا کیونکہ جس وقت یہ معاشقہ شروع ہوا، اس وقت خود ممانی کا گھر تباہی کے دہانے پر تھا۔ دونوں کے بیچ یہ تعلق دس برس تک قائم رہا جس کے بعد لڑکے نے یہ تعلق توڑ دیا۔ اب اس تعلق کو ٹوٹے ہوئے بھی چھ برس گزر چکے ہیں۔ تین برس قبل مذکورہ خاتون ان صاحب کی زندگی میں آئیں اور اب ان کے بچے بھی ہیں۔ خاتون کہتی ہیں کہ جس وقت ان کے اور ان کے شوہر کے بیچ معاملات سنجیدہ نہ ہوئے تھے، تب انہوں نے اس ماضی کی کہانی کو دوہرایا تھا اور اعتراف کیا تھا کہ یہ ایک سچا پیار تھا۔ اب وہ فرد شدید پچھتاوے اور دکھ کا شکار ہے۔ کبھی کبھار وہ اس امر پر ضرورت سے زیادہ حیران ہوجاتے ہیں کہ ان کے اس قدر شدید گناہ کبیرہ کے باوجود بھی انہیں اس قدر پیارا گھر اور بچے مل گئے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ شوہر اپنے ماموں زاد کزنز سے بے حد قریب ہے، اس لئے ممانی سے بھی کسی حد تک رابطہ قائم ہے۔ خاتون کے پاس اب شک کرنے کیلئے کوئی جواز نہیں ہے کہ ان کا اپنی ممانی سے دوبارہ عشق شروع ہوچکا ہے تاہم شوہر کی جانب سے اس درخواست کو وہ رد کرچکی ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان کے ماموں زاد کزنز کی فیس بک پر دوست بننے کی درخواست کو قبول کرلیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ درخواست قبول کرلی تھی تام اب انہیں دکھ ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ اب خاتون چاہتی ہیں کہ وہ شوہر کے ماموں زاد کزنز کو فیس بک سے ڈیلیٹ کردیں اور انہوں نے اپنے شوہر سے بھی ایسا کرنے کو کہا تاہم وہ کہتے ہیں کہ وہ ان کے کزنز ہیں اور وہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں۔ دونوں میاں بیوی اس مسئلے پر کئی بار لڑ چکے ہیں۔ خاتون کا سوال ہے کہ کیا اس طرح سوچنا پاگل پن ہے؟ فیس بک سے ڈیلیٹ کر دینا مسئلے کا حل تو نہیں کیونکہ وہ پھر بھی دونوں کی زندگی میں موجود رہے گی۔ خاتون نے اپنے مسئلے کا حل طلب کیا ہے۔ نیشنل پوسٹ میں گھریلومسائل اورالجھنوں کا جواب دینے والی ایملی یوف اس کا جواب کچھ یوں دیتی ہیں کہ :
ایملی نے ان کے شوہر کی ممانی کو موقع کی تاک میں رہنے والی خاتون قرار دیا ہے جس نے موقع دیکھتے ہی گدھ کی مانند 16سالہ لڑکے پر جھپٹا مار دیا۔ ایملی نے ان کے شوہر کو قصوروار ٹھہرانے سے انکار کیا اور کہا کہ جس وقت یہ شروع ہوا، اس وقت وہ کمزور تھے اورعین ممکن ہے کہ ان کی توجہ سے وہ جنسی طور پر مشتعل ہوئے تاہم یہ اس تعلق کو شروع کرنے کا جواز نہیں۔ یہ معاشقہ جس وقت شروع ہوا، اس وقت وہ کچے ذہن کے مالک تھے اور اسی لئے ممانی کی شخصیت اور زندگی میں ان کے کردار نے گہرے اثرات مرتب کئے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ خاتون کے شوہر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اسے سدھارنے کیلئے اس نے اس تعلق کو ختم کرتے ہوئے ایک نیا تعلق بنایا۔ شادی اور پھر بچوں کی پیدائش اس کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ایک نارمل زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ ایملی کا مشورہ ہے کہ انہیں اپنے سسرالی کزنز کو فیس بک سے نہیں نکالنا چاہئے کیونکہ جو کچھ ہوا، اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ممانی نفسیاتی حربوں سے شادی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کی شاطرانہ چالوں کی وجہ سے بظاہر وہ معصوم بھی ہیں تاہم اس تعلق کو نقصان بھی پہنچا رہی ہیں۔ایملی کا مشورہ ہے کہ جوڑے کو کسی تھراپسٹ کو دکھانا چاہئے تاکہ وہ اپنے ماضی کے پچھتاووں سے نکل سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…