ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

انڈو نیشیا :من کی مرادیں پانے کےلئے جنسی کھیل نوجوانوں میں عام

datetime 1  اپریل‬‮  2015 |

جکارتہ (نیوز ڈیسک) من کی مرادیں پانے کیلئے دعا اور صدقہ خیرات کا رواج تو عام بات ہے لیکن انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا پر لوگ مرادیں پوری کرنے کیلئے ایک دور دراز پہاڑ کا رخ کرتے ہیں جہاں مرد وزن مذہبی رسوم ادا کرنے کی بجائے کھلے عام جنسی کھیل کھیلتے ہیں۔یہ پہاڑ جزیرہ جاوا کے وسطی علاقے میں واقع ہے اور اس پر Gunung Kemukus نامی آشرم واقع ہے جہاں روایات کے مطابق ایک شہزادہ اور اس کی محبوبہ دفن ہیں۔ تاریخی حکایتوں کے مطابق شہزادے پنجران سمودرو نے اپنی محبوبہ کے ساتھ بھاگ کر یہاں پناہ لی اور جب وہ قربت کا تعلق استوار کررہے تھے تو اسی دوران مسلح سپاہیوں نے حملہ کرکے انہیں ہلاک کردیا۔ یہاں کے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے آشرم میں آکر اجنبیوں کے ساتھ جنسی فعل کرنے سے شہزادے اور اس کی محبوبہ کی روح کو سکون ملتا ہے اور مرادیں پوری ہوجاتی ہیں۔
یہاں انڈونیشیا کے طول و عرض سے مسائل کے شکار لوگ آتے ہیں جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔ ہر 35 دن بعد خصوصی اجتماع ہوتا ہے لیکن عام دنوں میں بھی یہاں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لوگ کاروبار کی ترقی، مالی اور گھریلو مشکلات کے حل اور ذہنی پریشانیوں سے چھٹکارے کیلئے یہاں آتے ہیں۔ جونہی شام ڈھلتی ہے اجنبی مرد اور عورتیں اپنے لئے ساتھی ڈھونڈنا شروع کردیتے ہیں اورپھر اندھیرا ہوتے ہر درخت کے نیچے جوڑے جنسی فعل میں مشغول نظر آتے ہیں۔ یہاں یہ کام صدیوں سے جاری ہے اور ہر ماہ ہزاروں لوگ یہاں اجنبیوں کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرتے ہیں۔
جب سے اس جگہ کی شہرت دیگر ممالک میں پھیلی ہے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی یہاں آنے لگی ہے اور اب یہاں مسائل کا حل ڈھونڈنے والوں کے علاوہ ہوس پرستوں کی بھاری تعداد بھی آنے لگی ہے جن کی ضرورت پوری کرنے کیلئے یہاں جسم فروش خواتین کی بھی بہتات ہوگئی ہے۔ حکومت کئی دفعہ اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشس کر چکی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بات بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…