منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی خواتین میں امراض قلب سے اموات کی شرح 5ممالک میں سب سے زیادہ

datetime 29  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں خواتین میں دل کے مرض سے اموات کی شرح جنوبی ایشیا کے پانچ ممالک میں سب سے زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر صحت بخش خوراک خواتین میں امراض قلب کے خطرات بڑھا رہے ہیں۔عالمی یوم قلب کے موقع پر کراچی پریس کلب میں فارما ایوو کی جانب سے ہر ہرٹ میٹرزمہم کا آغاز کیا گیا۔مہم پاکستان کارڈیک سوسائٹی، سوسائٹی آف آبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹس آف پاکستان، پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن اورجو ریڈ فار ویمن کے تعاون سے شروع کی گئی، جس کا مقصد خواتین میں دل کے امراض کی بروقت تشخیص، اسکریننگ اور علاج سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ ۔ماہرین نے کہا کہ خواتین میں امراض قلب کو اب بھی اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، جبکہ حمل، زچگی اور سن یاس کے دوران خواتین کی قلبی صحت پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر سامنے آنے کے باوجود بعض خواتین زچگی کے بعد فالو اپ نہیں کراتیں، جبکہ بعض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات بھی بند کردیتی ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر طحہین عباس نے کہا کہ حمل کے دوران اور زچگی کے بعد خواتین کی باقاعدہ طبی نگرانی ضروری ہے، جبکہ حمل میں وقفہ، مناسب خاندانی منصوبہ بندی اور مسلسل فالو اپ خواتین کی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے خواتین کو باقاعدہ ورزش کرنے اور تلی ہوئی اشیا، بیکری مصنوعات، سافٹ ڈرنکس اور میٹھے مشروبات کے استعمال میں کمی کی ہدایت کی۔پروفیسر ڈاکٹر حلیمہ یاسمین نے بتایا کہ ان کی کلینیکل سروس میں اسکریننگ کے دوران تقریبا 4 فیصد حاملہ خواتین میں دل کے امراض کی تشخیص ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حمل خواتین میں ہائی بلڈ پریشر اور پہلے سے موجود مگر تشخیص نہ ہونے والے دل کے مرض کی نشاندہی کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر شبنم نوید نے کہا کہ جے پی ایم سی کی ذیابیطس کلینک میں آنے والی 90 فیصد سے زائد خواتین میں قلبی امراض کے خطرات موجود تھے۔ ان کے مطابق ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپا خواتین میں امراض قلب کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں۔پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر فواد فاروق نے کہا کہ ذہنی دبا بھی امراض قلب میں اضافے کا اہم سبب ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی اور ثانوی سطح پر مثر قلبی نگہداشت کا نظام نہ ہونے کے باعث خصوصی امراض قلب کے اسپتالوں پر مریضوں کا دبا بڑھ رہا ہے۔ بعض مریض انجیو پلاسٹی کے چند ہفتوں بعد ہی ادویات چھوڑ دیتے ہیں جس سے دوبارہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق 2026 میں ایشیا جے اے سی سی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق 2021 میں پاکستان میں خواتین میں سکیمک ہارٹ ڈیزیز سے عمر کے لحاظ سے معیاری اموات کی شرح ان پانچ ممالک میں سب سے زیادہ تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…