منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پیدائش کے فوراً بعد نومولود کے لیے ماں کا دودھ کتنا ضروری ہے؟ ماہرین کی اہم ہدایت

datetime 22  اگست‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی) اندرونِ سندھ کے ٹرشری کیئر اسپتالوں سے تعلق رکھنے والی نرسز اور مڈوائفز کے لیے کراچی میں بریسٹ فیڈنگ کے حوالے سے اہم تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا،

جس میں ماہرین نے نومولود بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت پر زور دیا۔ورکشاپ کے دوران ماہرین نے کہا کہ نارمل ڈیلیوری ہو یا سیزیرین، دونوں صورتوں میں نومولود کو پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ شروع کرانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے زندگی کا بہترین آغاز ہے، جبکہ پیدائش کے ابتدائی لمحات میں پلایا جانے والا دودھ کولوسٹرم غذائیت سے بھرپور ہونے کے ساتھ نومولود کے لیے قدرتی حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کولوسٹرم میں موجود امیونوگلوبولنز نومولود کو مختلف اقسام کے انفیکشنز سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس لیے بچے کو پیدائش کے چند ہی منٹوں کے اندر بریسٹ فیڈنگ شروع کرانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے نرسز اور مڈوائفز پر زور دیا کہ وہ زچہ و بچہ کی دیکھ بھال کے دوران ماں کو فوری اور درست بریسٹ فیڈنگ کے حوالے سے رہنمائی فراہم کریں۔ورکشاپ میں شرکا کو بتایا گیا کہ نومولود کو ابتدائی ایام میں ماں کا دودھ فراہم کرنا بچے کی صحت، قوتِ مدافعت اور بہتر نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس موقع پر روایتی طور پر نومولود بچوں کو دی جانے والی کھیوا، گھٹی اور شہد جیسی اشیا کے استعمال کی بھی حوصلہ شکنی کرنے پر زور دیا گیا۔ماہرین نے کہا کہ بچے کو پیدائش کے فوراً بعد غیر ضروری اشیا دینے کے بجائے صرف ماں کا دودھ پلانے کا عمل شروع کیا جائے، جبکہ خاندانوں میں موجود روایتی تصورات کو بھی آگاہی کے ذریعے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔اختتامی تقریب میں صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے شرکت کی اور ورکشاپ میں شریک نرسز اور مڈوائفز میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔

تقریب میں پی پی اے کے سربراہ ڈاکٹر خالد، پروفیسر ڈاکٹر جمال رضا اور ڈاکٹر نگہت شاہ سمیت دیگر ماہرین اور متعلقہ شعبوں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے تربیتی پروگرام کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں سے طبی عملے کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا اور نومولود بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ پلانے کے حوالے سے مؤثر اقدامات میں مدد ملے گی۔شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اپنے اسپتالوں میں ماؤں کو بریسٹ فیڈنگ کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ نومولود بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد صرف ماں کا دودھ شروع کرانے کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کردار ادا کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…