جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

ڈیلٹا بچوں میں سابقہ اقسام کے مقابلے میں زیادہ سنگین بیماری کا باعث نہیں بنتی،امریکی محکمہ صحت

datetime 5  ستمبر‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)کورونا وائرس کی زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا سے بچوں کے بیمار ہونے کا امکان دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتا ہے مگر سنگین بیماری کا خطرہ نہیں ہوتا۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی جانب سے

جاری مختلف تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئی۔ان تحقیقی رپورٹس میں سے ایک میں 20 جون سے 31 جولائی تک کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے پر دریافت کیا گیا کہ ویکسینیشن نہ کرانے والے نوجوانوں کا ہسپتال میں داخلے کا خطرہ ویکسینیشن کرانے والوں کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہوتا ہے۔اس تحقیق میں 14 ریاستوں کے ہسپتالوں کے یکم مارچ سے 14 اگست تک کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا تھا۔مارچ میں امریکا میں ڈیلٹا کا پھیلائو شروع نہیں ہوا تھا بلکہ 20 جون کے بعد وہ امریکا میں سب سے زیادہ پھیلنے والی قسم بنی۔12 جون سے 3 جولائی تک 0 سے 17 سال کے گروپ کی ہسپتال میں داخلے کی ہفتہ وار شرح ہر ایک لاکھ مریضوں میں 0.3 تھی جو 1 اگست کے اختتام تک .7 گنا اضافے سے 1.4 تک پہنچ گئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ بچوں اور نوجوانوں کے ہسپتال میں داخلے کی شرح میں اضافہ ہوا مگر ان میں بیماری کی سنگین شدت کی شرح اتنی ہی تھی جتنی سابقہ اقسام کے شکار بچوں کی تھی۔تحقیق کے مطابق اس سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی یہ زیادہ متعدی قسم بچوں میں سابقہ اقسام کے مقابلے میں زیادہ سنگین بیماری کا باعث نہیں بنتی۔سی ڈی سی کی ڈائریکٹر روشیلے ولیکسکے نے پریس بریفننگ کے دورانن بتایا کہ اگرچہ بچوں میں کووڈ کیسز کی شرح بڑھ رہی ہے مگر نئی تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ کورونا کی یہ قسم بچوں میں بہت زیادہ بیماری کا خطرہ نہیں بڑھا رہی۔انہوں نے کہا کہ بچوں میں کووڈ کے زیادہ پھیلا کی وجہ یہ ہے کہ برادری میں یہ بیماری زیادہ پھیل رہی ہے۔دوسری تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگست کے 2 ہفتوں کے دوران ان ریاستوں میں بچوں اور نوجوانوں کے کووڈ کے باعث ہسپتالوں میں داخلے کی شرح بہت زیادہ تھی جہاں ویکسینیشن کی شرح بہت کم تھی۔سی ڈی سی ڈائریکٹر نے کہا کہ ڈیٹا سے واضح ہوتا ہے کہ برادری کی سطح پر ویکسینیشن سے بچوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے، برادری میں کووڈ کے کیسز بڑھنے سے بچے بھی زیادہ بیمار ہوتے ہیں۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق 12 سے 17 سال اور 0 سے 4 سال کے گروپس میں کووڈ سے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 5 سے 11 سال کے بچوں کے مقابلے میں زیادہ دریافت ہوا۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ ڈیلٹا سے قبل آئی سی یو میں داخلے کی شرح 26.5 فیصد اور ڈیلٹا کے بعد23.3 فیصد تھی، ویٹی لیٹر سپورٹ کی ضرورت ڈیلٹا سے قبل 6.1 فیصد اور ڈیلٹا کے بعد 9.8 فیصد تھی۔اموات کی شرح ڈیلٹا سے قبل 0.7 فیصد اور ڈیلٹا کے بعد 1.8 فیصد تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…