جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ڈیلٹا بچوں میں سابقہ اقسام کے مقابلے میں زیادہ سنگین بیماری کا باعث نہیں بنتی،امریکی محکمہ صحت

datetime 5  ستمبر‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)کورونا وائرس کی زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا سے بچوں کے بیمار ہونے کا امکان دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتا ہے مگر سنگین بیماری کا خطرہ نہیں ہوتا۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی جانب سے

جاری مختلف تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئی۔ان تحقیقی رپورٹس میں سے ایک میں 20 جون سے 31 جولائی تک کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے پر دریافت کیا گیا کہ ویکسینیشن نہ کرانے والے نوجوانوں کا ہسپتال میں داخلے کا خطرہ ویکسینیشن کرانے والوں کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہوتا ہے۔اس تحقیق میں 14 ریاستوں کے ہسپتالوں کے یکم مارچ سے 14 اگست تک کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا تھا۔مارچ میں امریکا میں ڈیلٹا کا پھیلائو شروع نہیں ہوا تھا بلکہ 20 جون کے بعد وہ امریکا میں سب سے زیادہ پھیلنے والی قسم بنی۔12 جون سے 3 جولائی تک 0 سے 17 سال کے گروپ کی ہسپتال میں داخلے کی ہفتہ وار شرح ہر ایک لاکھ مریضوں میں 0.3 تھی جو 1 اگست کے اختتام تک .7 گنا اضافے سے 1.4 تک پہنچ گئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ بچوں اور نوجوانوں کے ہسپتال میں داخلے کی شرح میں اضافہ ہوا مگر ان میں بیماری کی سنگین شدت کی شرح اتنی ہی تھی جتنی سابقہ اقسام کے شکار بچوں کی تھی۔تحقیق کے مطابق اس سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی یہ زیادہ متعدی قسم بچوں میں سابقہ اقسام کے مقابلے میں زیادہ سنگین بیماری کا باعث نہیں بنتی۔سی ڈی سی کی ڈائریکٹر روشیلے ولیکسکے نے پریس بریفننگ کے دورانن بتایا کہ اگرچہ بچوں میں کووڈ کیسز کی شرح بڑھ رہی ہے مگر نئی تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ کورونا کی یہ قسم بچوں میں بہت زیادہ بیماری کا خطرہ نہیں بڑھا رہی۔انہوں نے کہا کہ بچوں میں کووڈ کے زیادہ پھیلا کی وجہ یہ ہے کہ برادری میں یہ بیماری زیادہ پھیل رہی ہے۔دوسری تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگست کے 2 ہفتوں کے دوران ان ریاستوں میں بچوں اور نوجوانوں کے کووڈ کے باعث ہسپتالوں میں داخلے کی شرح بہت زیادہ تھی جہاں ویکسینیشن کی شرح بہت کم تھی۔سی ڈی سی ڈائریکٹر نے کہا کہ ڈیٹا سے واضح ہوتا ہے کہ برادری کی سطح پر ویکسینیشن سے بچوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے، برادری میں کووڈ کے کیسز بڑھنے سے بچے بھی زیادہ بیمار ہوتے ہیں۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق 12 سے 17 سال اور 0 سے 4 سال کے گروپس میں کووڈ سے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 5 سے 11 سال کے بچوں کے مقابلے میں زیادہ دریافت ہوا۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ ڈیلٹا سے قبل آئی سی یو میں داخلے کی شرح 26.5 فیصد اور ڈیلٹا کے بعد23.3 فیصد تھی، ویٹی لیٹر سپورٹ کی ضرورت ڈیلٹا سے قبل 6.1 فیصد اور ڈیلٹا کے بعد 9.8 فیصد تھی۔اموات کی شرح ڈیلٹا سے قبل 0.7 فیصد اور ڈیلٹا کے بعد 1.8 فیصد تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…