پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

انسانی جسم ماضی میں ہونیوالے کورونا وائرسز کے حملے کو یادرکھتا ہے، نئی طبی تحقیق

datetime 25  جنوری‬‮  2021 |

نیویارک(این این آئی )ماضی میں کسی بھی قسم کے کورونا وائرس کا سامنا مدافعتی نظام کو نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے لڑنے کے لیے تیار کرتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر متعدد اقسام کے کورونا وائرسز دنیا میں گردش کررہے ہیں، جن میں سے بیشتر عام نزلہ زکام جیسی

بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔تاہم 2012 میں مرس اور 2003 میں سارس کوو 1 میں جان لیوا کورونا وائرسز سامنے آئے تھے۔اس نئی تحقیق میں جانچ پڑتال کی گئی کہ کورونا وائرسز کس طرح انسانی مدافعتی نظام پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ بھی دیکھا گیا کہ ان سے پیدا ہونے والا اینٹی باڈی ردعمل نئے کورونا وائرس کے خلاف کس طرح کام کرتا ہے۔امریکا کے ٹرانزیشنل جینومکس ریسرچ انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 سے جسم میں ایک ایسا اینٹی باڈی ردعمل بیدار ہوتا ہے جو ماضی کے کورونا وائرسز کا سامنا ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے، جس سے ہمیں لگتا ہے کہ متعدد افراد کو اس وائرس کے حوالے سے پہلے سے کسی قسم کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے سائنسدانوں کو تشخیص اور علاج کی نئی تیکنیکس تیار کرنے میں مدد مل سکے گی، بلڈ پلازما کی افادیت کی جانچ پڑتال کے ساتھ ویکسینز یا مونوکلونل اینٹی باڈی تھراپیز کو ڈیزائن کرنا ممکن ہوسکے گا، جس سے لوگوں کو کورونا وائرس کی نئی اقسام سے بچایا جاسکے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ نتائج میں مدافعتی نظام کے ان حصوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، جہاں دیگر کورونا وائرس سے سابقہ ہونے پر اینٹی باڈی ردعمل نظر آتا ہے، جو وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح بڑھانے کے لیے بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز نئے کورونا وائرس کے عناصر کو جکڑ سکتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی میں کورنا وائرسز کی مختلف اقسام کا سامنا نئے وائرس کے خلاف مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔اس تحقیق سے یہ ممکنہ وضاحت ہوتی ہے کہ نئے کورونا وائرس سے بیشتر افراد میں بیماری کی شدت معمولی یا علامات ظاہر کیوں نہ نہیں ہوتیں یا کچھ میں یہ بہت زیادہ کیوں ہوتی ہے اور انہیں ہسپتال داخل کرانا پڑتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نئے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ماضی میں کورونا وائرس کی بیماری کے دوران کسی فرد کا مدافعتی ردعمل کس حد تک کووڈ 19 کی شدت پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…