جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

کووڈ کے ہر3 میں سے ایک مریض میں علامات  ظاہر نہیں ہوتیں، امریکا میں ہونے والی نئی طبی تحقیق

datetime 24  جنوری‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار ایک تہائی افراد میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں،، مگر اس دوران وہ اسے دیگر افراد تک منتقل کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اسکریپپس ریسرچ کی اس تحقیق میں میں 18 لاکھ سے زیادہ افراد ہونے والی 61 طبی تحقیقی رپورٹس کا

تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 سے متاثر کم از کم ہر 3 میں سے ایک فرد میں کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔طبی جریدے اینالز آف انٹرنل میڈیسین میں شائع تحقیق میں نومبر 2020 تک دنیا بھر میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔43 تحقیقی رپورٹس کو پی سی آر ٹیسٹنگ کو پیمانہ بنایا گیا تھا جبکہ 18 میں اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کو استعمال کیا گیا اور نئی تحقیق میں ان سب کے ڈیٹا کو اکٹھا کیا گیا۔ڈیٹا سے ثابت ہوا کہ جن افراد کے ٹیسٹوں میں وائرس کی موجودگی ثابت ہوئی، ان میں سے ایک تہائی کو کبھی علامات کا سامنا نہیں ہوا۔ماہرین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ڈیٹا سے بغیر علامات والے مریضوں کی ٹیسٹنگ کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ سے بغیر علامات والے مریضوں سے صحت مند افراد میں وائرس کی منتقلی کے عمل کو زیادہ موثر طریقے سے روکا جاسکتا ہے۔تحقیق میں کہا گیا کہ کووڈ 19 کی روک تھام کی حکمت عملیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور بغیر علامات والے مریضوں سے اس کے پھیلا کے خطرے کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔محققین کا کہنا تھا کہ ویکسینز کو دنیا بھر میں متعارف کرایا جارہا ہے، مگر بغیر علامات والے مریضوں سے اس کے پھیلا کی روک تھام میں ان کی افادیت کے تعین کی ضرورت ہے۔اس سے قبل جنوری 2021 میں امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے لگ بھگ 60 فیصد کیسز ایسے افراد کے نتیجے میں پھیلتے ہیں جن میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔اس کے لیے ایک ماڈل تیار کیا گیا تھا جس کے مطابق 59 فیصد کیسز کی وجہ کورونا سے متاثر بغیر علامات والے افراد ہوتے ہیں۔ان میں 35 فیصد نئے کیسز کی وجہ ایسے افراد ہوتے ہیں جو اس وائرس کو علامات ظاہر ہونے سے قبل دیگر تک منتقل کردیتے ہیں جبکہ 24 فیصد ایسے افراد کی وجہ سے ہوتے ہیں جن میں کبھی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں۔سی ڈی سی کے وبائی امراض کے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور تحقیق میں شامل جے سی بٹلر نے کہا ‘کووڈ 19 کی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے خاموشی سے پھیلانے والے افراد کی بھی روک تھام کی جائے۔انہوں نے کہا کہ فیس ماسک کا استعمال، ہاتھ دھونا اور سماجی دوری جیسے ٹولز کی مدد سے نئے کورونا وائرس کے پھیلا کی رفتار سست کی جاسکتی ہے، کم از کم اس وقت تک جب تک ویکسینز بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں ہوجاتیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…