جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

کورونا ویکسین کی مساوی تقسیم کا وعدہ خطرے سے دوچار ہو گیا،عالمی ادارہ صحت نے تشویشناک بات کر دی

datetime 19  جنوری‬‮  2021 |

جنیوا(این این آئی) عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے واضح طور پر کہا ہے کہ دنیا تباہ کن اخلاقی ناکامی کے دہانے پر ہے۔ تباہ کن اخلاقی ناکامی کی قیمت دنیا کے غریب ممالک انسانی جانوں اور معاش کے ساتھ ادا کریں گے۔عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کے ایگزیکیٹو بورڈ کے

اجلاس سے خطاب میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا کہ ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاں عالمی سطح پر گرین لائٹ ویکسین کے استعمال کے لیے اپنا ڈیٹا عالمی ادارہ صحت کے پاس جمع کرانے کے بجائے امیر ممالک میں ریگولیٹری منظوری کے پیچھے پڑ گئی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ویکسین تک تمام ممالک کو مساوی بنیادوں پر فراہم کرنے کے وعدے کو اب سنگین خطرہ لاحق ہے۔ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے کاہ کہ اگر امیر ممالک نے کورونا ویکسین کے استعمال میں خود غرضی کا مظاہرہ کیا اورغریب ممالک کا خیال نہ رکھا تو دنیا تباہ کن اخلاقی ناکامی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے اپنے خطاب میں پہلے امیر ممالک کے رویے پر تنقید کی اور پھر کہا کہ زیادہ آمدنی والے 49 ممالک میں اب تک کورونا ویکسین کی تین کروڑ 90 لاکھ خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے اپنے خطاب میں انکشاف کیا کہ اس کے مقابلے میں کم آمدنی والے ملک میں ویکسین کی صرف 25 خوراکیں فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر بتایا کہ میرے کہنے کا مطلب 25 ملین یا 25 ہزار ہرگز بھی نہیں ہے بلکہ صرف 25 خوراکوں سے ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس

ایڈہانوم نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ مجھے کھل کر کہنے دیں کہ یہاں کچھ ممالک ویکسین تک مساوی رسائی دینے کی یقین دہانی کراتے ہیں لیکن پھر کمپنیوں سے اپنے معاملات آگے بڑھاتے ہیں اور قیمتیں بھی بڑھاتے ہیں۔ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے اسی ضمن میں کہا کہ ویکسین بنانے والے بھی عالمی ادارہ صحت کے پاس

تفصیلات جمع کرانے کے بجائے امیر ممالک میں اپنی ویکسین کی منظوری کرانے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں منافع زیادہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے مطابق اس طرح دنیا کے غریب ممالک اور کمزور افراد کی زندگیوں کی خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے واضح طور پر کہا کہ اس طرح وبا کے دورانیے میں اضافہ ہوگا، درد طویل ہو جائے گا اور بیماری پر قابو پانے کی پابندیاں بڑھتی رہیں گی اور انسانی مشکلات میں اضافے کا مزید سبب ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…