منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

انسانی دماغ چاٹ کھانے والا نگلیریا اور کانگو وائرس پھیلنے کاخدشہ، پہلے مریض کی تصدیق ہو گئی، انتہائی تشویشناک خبر سنا دی گئی

datetime 26  جولائی  2020 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی وجہ سے کانگو وائرس پھیلنے کاخدشہ ہے، نجی ہسپتال میں زیر علاج مریض میں وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے، اس موقع پر ماہرین صحت نے احتیاطی تدابیر کا مشورہ دیا ہے، نگلیریا کا جرثومہ شدید گرم موسم اورصاف پانی میں پھلتا پھولتا ہے اور ناک ومنہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوکردماغ کے خلیوں کوکھاناشروع کردیتا ہے،

رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ یہ جرثومہ اگرشہرکا درجہ حرارت 36 سے 38 ڈگری ہوتونشوونما پانا شروع کردیتا ہے جس کا خاتمہ پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدارشامل کرکے کیا جاسکتا ہے۔عام طور پر نگلیریاکی علامات سات دن میں ظاہر ہوتی ہیں، جو گردن توڑ بخار سے ملتی جلتی ہیں،سرمیں تیز درد ہونا، الٹیاں یا متلی آنا، گردن اکڑ جانا اور جسم میں جھٹکے لگنا اس کی واضح علامات ہیں۔ماہرین صحت کا کہناہے کہ کانگو وائرس مختلف جانوروں مثلاًبھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پایا جاتا ہے جوجانورکی کھال سے چپک کراس کا خون چوستا رہتا ہے اور یہ کیڑا ہی اس بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے، یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا پسو سے متاثرہ جانورذبح کرتے ہوئے بے احتیاطی کی وجہ سے قصائی کے ہاتھ پرکاٹ لے تویہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے اور پھر اس طرح کانگو وائرس جانورسے انسانوں اور ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتا ہے۔اس وائرس سے متاثرہ مریض کو تیز بخار ہوتا ہے اس کے علاوہ سردرد، متلی ہونا، قے آنا، بھوک کم لگنا، کمزوری، غنودگی، منہ میں چھالے اور آنکھوں میں سوجن بھی ہو جاتی ہے، ماہرین صحت کے مطابق اس سے متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے بھی متاثر ہوجاتے ہیں اس کے بعد جگراورگردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یہ عمل مریض کو موت کی طرف لے جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…