بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کی وجہ سے لوگوں میں کون سی بیماری خاموشی سے پروان چڑھنے لگی؟ماہرین نفسیات کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 5  اپریل‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر ماہرین نفسیات نے کہاہے کہ کورونا وائرس کے سبب لوگوں میں نفسیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، لوگوں میں کورونا فوبیا کی بیماری جنم لے رہی ہے۔کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل سے متعلق ماہرین نفسیات پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج اور پروفیسر ڈاکٹر ایم ایچ مبشر نے خصوصی گفتگو کے دوران بتایاکہ کورونا کے خوف سے نیند، کھانے پینے کے مسائل سمیت ڈپریشن بڑھ رہا ہے۔

کورونا کے باعث لوگوں کی زندگی محدود اور تبدیل ہوچکی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ انسان کی قوت برداشت کی ایک حد ہوتی ہے، لوگوں کو غصہ زیادہ آرہا ہے اور چڑچڑا پن پیدا ہورہا ہے جبکہ غصہ زیادہ آنے سے تعلقات متاثر ہوتے ہیں، ذہنی صحت اچھی ہوگی تو کورونا پر قابو پالیں گے۔انہوں نے چرچڑا پن دور کرنے کے لیے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ دکھ درد بانٹیں گے تو ذہنی مسائل پیدا نہیں ہوں گے، ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے سے ڈپریشن کم ہوتا ہے، لوگوں کو موجودہ حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ لوگوں کو اپنے غصے پر کنٹرول کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں میں مستقبل کے بارے میں غیر یقینی پیدا ہوچکی ہے، محدود ماحول میں رہنے سے گھروں میں تنازعات بڑھ جاتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر ایم ایچ مبشر نے کہاکہ لوگ ایک دوسرے سے منقطع ہوں تو قوت مدافعت پر اثر پڑتا ہے، لوگوں کی ذہنی قوت مدافعت بھی بہت کم ہوگئی ہے، سماجی فاصلہ مغرب کی اصطلاح ہے جس کی نقالی سے مسائل بڑھیں گے۔پروفیسر ایم ایچ مبشرنے کہاکہ تنہائی سے ذہنی کوفتیں بڑھ رہی ہیں جس کے سبب گھروں میں بند ہونے سے لوگ اندر ہی اندر گھٹ رہے ہیں ٹیکنالوجی کے ذریعے روابط قائم رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…