جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

کرو نا وائرس زندہ جاندار نہیں بلکہ بے جان ہے ،اسے مارا نہیں جاسکتا لیکن اسے کیسے تباہ یا تحلیل کیاجا سکتا ہے؟ ماہرین نے طریقہ کار بتا دیا

datetime 31  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس نے پوری دنیاکو متاثر کررکھا ہے ، روزانہ متاثرہ مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ دنیا میں اس وقت تقریباً آٹھ لاکھ کیسز سامنے آئے، ہلاکتوں کی تعداد 38ہزار سات سو سے زائد جبکہ صحت یاب افراد کی تعدا د ایک لاکھ 70ہزار ہو گئی ہے ۔ پاکستان میں اس وقت کنفرم کیسز کی تعداد اٹھارہ سو پینسٹھ ، جاں بحق افراد کی تعداد 25جبکہ صحت یاب ہونیوالے افراد کی تعداد 58ہو گئی ہے ۔ تاہم اب ماہرین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس زندہ جاندار نہیں بلکہ

ایک پروٹین مالیکیول ہے جس کی بیرونی تہہ پر چربی لیپڈ ہوتی اس لیے اس مارا نہیں بلکہ تباہ یا تحلیل کیا جا سکتا ہے ۔ کیمسٹری قانو کے مطابق ایک جیسی چیزیں ایک جیسی چیزوں کو تحلیل کرتی ہیں کرونا وائرس بیکٹریاکی طرح زندہ نہیں رہ سکتا یہ بے جان پروٹین ہے الکوحل ، صابن یا پھر 25سے 30ڈگری سینٹی گریڈ پر گرم پانی میں یہ مہلک وائرس زندہ نہیں رہ سکتا ۔ گرم پانی ، الکوحل یا پھر صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں تو کرونا بڑھنےکی بجائے ٹوٹ پھوٹ کر تباہ یا تحلیل ہو جاتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…