جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کرو نا وائرس زندہ جاندار نہیں بلکہ بے جان ہے ،اسے مارا نہیں جاسکتا لیکن اسے کیسے تباہ یا تحلیل کیاجا سکتا ہے؟ ماہرین نے طریقہ کار بتا دیا

datetime 31  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس نے پوری دنیاکو متاثر کررکھا ہے ، روزانہ متاثرہ مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ دنیا میں اس وقت تقریباً آٹھ لاکھ کیسز سامنے آئے، ہلاکتوں کی تعداد 38ہزار سات سو سے زائد جبکہ صحت یاب افراد کی تعدا د ایک لاکھ 70ہزار ہو گئی ہے ۔ پاکستان میں اس وقت کنفرم کیسز کی تعداد اٹھارہ سو پینسٹھ ، جاں بحق افراد کی تعداد 25جبکہ صحت یاب ہونیوالے افراد کی تعداد 58ہو گئی ہے ۔ تاہم اب ماہرین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس زندہ جاندار نہیں بلکہ

ایک پروٹین مالیکیول ہے جس کی بیرونی تہہ پر چربی لیپڈ ہوتی اس لیے اس مارا نہیں بلکہ تباہ یا تحلیل کیا جا سکتا ہے ۔ کیمسٹری قانو کے مطابق ایک جیسی چیزیں ایک جیسی چیزوں کو تحلیل کرتی ہیں کرونا وائرس بیکٹریاکی طرح زندہ نہیں رہ سکتا یہ بے جان پروٹین ہے الکوحل ، صابن یا پھر 25سے 30ڈگری سینٹی گریڈ پر گرم پانی میں یہ مہلک وائرس زندہ نہیں رہ سکتا ۔ گرم پانی ، الکوحل یا پھر صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں تو کرونا بڑھنےکی بجائے ٹوٹ پھوٹ کر تباہ یا تحلیل ہو جاتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…