ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

مرگی کا مریض صحت مند زندگی گزار سکتاہے، طبی ماہرین نے خوشخبری سنا دی، ماؤں کو بچوں کے حوالے سے اہم بات بھی بتا دی گئی

datetime 13  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)طبی ماہرین نے کہا کہ مرگی کا مرض بچپن، جوانی اور پچاس سال کی عمر ہوجانے کے بعد بھی ہو سکتا ہے یہ بیماری قابل علاج ہے لہذا اس مرض میں مبتلا افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے جبکہ پاکستان میں ایک محتاظ اندازے کے مطابق مرگی کے مریضوں کی تعداد تقریبا 20لاکھ ہے۔مرض میں مبتلا مریض کوجوتا سنگھانا،تھپڑ مارنا، پانی ڈالنا، منہ میں انگلی ڈالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا،اہل خانہ کو کوشش کرنا چاہئے کہ ایسے مریض کو زخمی ہونے سے بچایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں پروفیسر خالد محمود، پروفیسر احسن نعمان، پروفیسر اطہر جاوید،پروفیسر ایم نعیم قصوری، ڈاکٹر محسن ظہیر،اور ڈاکٹر شاہد مختار آگاہی سیمینار میں کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹروں، پیرا میڈکس کے علاوہ مریضوں کے عزیز و اقارب بھی موجود تھے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیورو سرجنز اور نیورولوجسٹس نے کہا کہ مرگی کا مرض لا علاج نہیں صحت یابی ممکن ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ مرض کی تشخیص بر وقت کی جائے۔ یہ دماغی بیماری ہے جس کاعلاج 21ویں صدی میں جدید آپریشن اور ادویات کی مدد سے ممکن ہے اورمریض صحت یاب ہو کر نارمل زندگی گزار سکتا ہے جبکہ حاملہ خواتین احتیاط کے ذریعے تندرست بچے کو جنم دے سکتی ہے۔ پروفیسرز صاحبان کا کہنا تھا کہ مرگی کے مریض دوروں کے دوران دماغی طور پر نارمل ہو تے ہیں۔ یہ مرض 95فیصد مورثی نہیں ہوتا ہے، مرگی کی گئی اقسام ہیں، صحیح تشخیص سے علاج بہتر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50سال کے بعد مرگی کی اہم وجہ ہائی بلڈ پریشر،شوگر اوربرین ٹیومر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بچوں کے پیٹ میں عجیب سا درد ہوتا ہے لیکن مائیں اس پر توجہ نہیں دیتیں یہ علامات بچوں کیلئے خطر ناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو مرگی کا مرض ہے تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو چاہئے کہ وہ اپنے معالج سے فرسٹ ایڈ کی مکمل معلومات حاصل کریں۔ طبی ماہرین کا مزید کہناتھا کہ مرگی کے مریض کو فوراً مستند ڈاکٹر یا نیورو فزیشن سے رجوع کرنا چاہیے۔خون کے متعلقہ ٹیسٹ، ای ای جی،ای ایم جی اور ایم آر آئی کروا کر باقاعدہ ادویات استعمال کرنی چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…