جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس پوری دنیا میں خوف کی علامت بن گیا ، اب تک کتنی اموات ہو گئیں؟وبا کو ’’عالمی ایمرجنسی‘ ‘قرار دیدیا گیا

datetime 31  جنوری‬‮  2020 |

جنیوا( آن لائن) اقوامِ متحدہ کے تحت قائم عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے چین میں نئے کرونا وائرس کی وبا 18 ممالک میں پھیلنے کے بعد اسے عالمی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے ۔30 جنوری کو ڈبلیو ایچ او کے صدر دفتر میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں چینی ماہرین نے چینی شہر ووہان سے پھوٹنے والے کرونا وائرس کی نئی قسم سے 213 افراد کی موت کی تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ 7711 مریضوں میں تصدیق ہوئی جب کہ 12 ہزار 167 مریض مشتبہ قرار دیئے گئے ہیں، ان مریضوں میں 1370 افراد تشویش ناک ہیں اور صرف 124 افراد ہی صحت مند ہوکر ہسپتال سے فارغ ہوئے ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کی عالمی ایمرجنسی کے ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے 18 ممالک میں 82 نئے کیس سامنے ا?ئے ہیں لیکن بتایا گیا کہ ان میں سے صرف 7 افراد ایسے ہیں جنہوں نے چین کا سفر نہیں کیا تھا۔ چین سے باہر تین ممالک میں کرونا وائرس ایک فرد سے دوسرے میں منتقل ہوا ہے۔ واضح رہے کہ چینی حکام عالمی ادارہ صحت سے ہر روز مسلسل رابطے میں ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے چینی حکام کی جانب سے کرونا وائرس کی فوری شناخت اور جینیاتی تجزیئے پر چینی کارکردگی کو سراہا۔ اس کی بدولت اب دنیا بھر میں کرونا وائرس کی شناخت ممکن ہوگئی ہے اور بچاؤ کے نئے طریقے بھی سامنے آئے ہیں۔واضح رہے کہ چین میں کرونا وائرس کا سب سے پہلا کیس گزشتہ برس دسمبر میں سامنے آیا تھا اور اس کے بعد کئی ممالک کے چین سے سامان کی ترسیل اور پروازیں تک روک دی ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے اپنے شہریوں کو چین کا سفر کرنے سے روک دیا ہے اور امریکی محکمہ خارجہ نے چوتھے درجے کی وارننگ جاری کی ہے۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین نے عالمی ادارہ صحت کو اس نئے وائرس کے کیسز کے حوالے سے پہلی بار دسمبر کے آخر میں آگاہ کیا تھا۔دنیا کے 18 ممالک میں کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں امریکا،

فرانس، جاپان، جرمنی، کینیڈا، جنوبی کوریا، ویت نام، آسٹریلیا، فلپائن، بھارت اور دیگر ممالک شامل ہیں۔علاوہ ازیں روس نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے چین کے ساتھ اپنی سرحد کو فوری طور پر بند کردیا جب کہ روسی حکومت نے چینی شہریوں کو فوری طور پر ویزوں کا اجرا بھی روک دیا ہے۔روسی حکام کا کہنا ہیکہ چین کے ساتھ ریلوے کے ذریعے آمدروفت بھی محدود کی جائے گی جس کے بعد 31 جنوری سے صرف ماسکو اور بیجنگ کے درمیان چلنے والی ٹرینیں جاری رکھی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…