منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان کی 90 فی صدآبادی کو وہ توجہ نہیں ملتی جو ملنا چاہیے ،ماہر نفسیات

datetime 11  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن) پاکستان کی 90 فی صدآبادی کو وہ توجہ نہیں ملتی ہے جو اس کو ملنا چاہیے جبکہ یورپی ممالک میں معاشرہ میں نظر انداز کئے جانے والے افراد کی تعدادپچاس فیصد کے قریب ہے، ذہنی بیماری دنیا کی تیسری بڑی بیماری شمار کی جاتی ہے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کے مطابق ہرسال 40 سے 50 لاکھ افراد ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ بات نفسیات کی استاد اور سی بی ٹی ایکسپرٹ میڈم ایویشا عنایت نے

جمعرات کے روز ذہینی صحت کے عالمی دن کے موقع پر محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی میں لیکچر دیتے ہوئے بتائی جس کا اہتمام یونیورسٹی کے بی ایس۔سائیکولوجی کی کو آرڈینیٹر اور پروگرام ایڈوائیزر مریم حنیف غازی نے کیا تھا۔ذہنی صحت کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے لیکچر میں میڈم ایویشا عنایت نے کہا کہ اس سال اس دن کا تھیم خود کشی کے رہجان سے بچاو رکھا گیا ہے کیونکہ دنیا بھر میں اس رحجان میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جو انتہائی قابل تشویش بات ہے جس کی بڑی وجہ لوگوں کو وہ توجہ نہ ملنا جو وہ چاہتے ہی اور ہمارا موجودہ طرز زندگی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد کا انتہائی افسردگی (Depression ) کا شکار ہوجانا ایک بیماری ہے جس کو نظر انداز کرنا یا اسے چھپانا درست نہیں ہے بلکہ اس کے علاج پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ماہر نفسیات کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے جبکہ ذہنی بیماریوں کے علاج کے ہسپتال کی تعداد 10 سے زائید نہیں ہے جس کی بنا پر 25 ہزار افراد کے لئے ایک مینٹل ہیلتھ ڈیویلپرز آتا ہے۔انہوں نے کہا ہمارے معاشرہ میں مایوسی کا شکار نوجوانوں کا علاج کرانے پر توجہ نہیں دی جاتی اور انھیں کہا جاتا ہے کہ مایوسی کفر ہے اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد یہ ٹھیک ہو جائیں گے درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ڈپریشن کا شکار افراد ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کے بجائے عاملوں کے چکر میں زیادہ

پڑجاتے ہیں مگر یہ بھی اس بیماری کا علاج نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سسٹم کی تبدیلی بھی اثر انداز ہوتی ہے اس لئے اس پیدا ہونے والے مسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے لوگوں کی سوچ کا زاویہ تبدیل کرانا بھی لازمی ہے۔انہوں نے بتایا کہ صحت

عامہ کی عالمی تنظیم کے سروے کے مطابق 45 سے 50 فی صد خواتین اور 20 سے 25 فی صد مرد ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی فلمیں نہ دیکھنے دیں جن میں خودکشی کرنے کے سین دکھائے جارہے ہوں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…