ہفتہ‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2025 

پاکستان کی 90 فی صدآبادی کو وہ توجہ نہیں ملتی جو ملنا چاہیے ،ماہر نفسیات

datetime 11  اکتوبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(آن لائن) پاکستان کی 90 فی صدآبادی کو وہ توجہ نہیں ملتی ہے جو اس کو ملنا چاہیے جبکہ یورپی ممالک میں معاشرہ میں نظر انداز کئے جانے والے افراد کی تعدادپچاس فیصد کے قریب ہے، ذہنی بیماری دنیا کی تیسری بڑی بیماری شمار کی جاتی ہے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کے مطابق ہرسال 40 سے 50 لاکھ افراد ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ بات نفسیات کی استاد اور سی بی ٹی ایکسپرٹ میڈم ایویشا عنایت نے

جمعرات کے روز ذہینی صحت کے عالمی دن کے موقع پر محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی میں لیکچر دیتے ہوئے بتائی جس کا اہتمام یونیورسٹی کے بی ایس۔سائیکولوجی کی کو آرڈینیٹر اور پروگرام ایڈوائیزر مریم حنیف غازی نے کیا تھا۔ذہنی صحت کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے لیکچر میں میڈم ایویشا عنایت نے کہا کہ اس سال اس دن کا تھیم خود کشی کے رہجان سے بچاو رکھا گیا ہے کیونکہ دنیا بھر میں اس رحجان میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جو انتہائی قابل تشویش بات ہے جس کی بڑی وجہ لوگوں کو وہ توجہ نہ ملنا جو وہ چاہتے ہی اور ہمارا موجودہ طرز زندگی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد کا انتہائی افسردگی (Depression ) کا شکار ہوجانا ایک بیماری ہے جس کو نظر انداز کرنا یا اسے چھپانا درست نہیں ہے بلکہ اس کے علاج پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ماہر نفسیات کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے جبکہ ذہنی بیماریوں کے علاج کے ہسپتال کی تعداد 10 سے زائید نہیں ہے جس کی بنا پر 25 ہزار افراد کے لئے ایک مینٹل ہیلتھ ڈیویلپرز آتا ہے۔انہوں نے کہا ہمارے معاشرہ میں مایوسی کا شکار نوجوانوں کا علاج کرانے پر توجہ نہیں دی جاتی اور انھیں کہا جاتا ہے کہ مایوسی کفر ہے اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد یہ ٹھیک ہو جائیں گے درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ڈپریشن کا شکار افراد ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کے بجائے عاملوں کے چکر میں زیادہ

پڑجاتے ہیں مگر یہ بھی اس بیماری کا علاج نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سسٹم کی تبدیلی بھی اثر انداز ہوتی ہے اس لئے اس پیدا ہونے والے مسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے لوگوں کی سوچ کا زاویہ تبدیل کرانا بھی لازمی ہے۔انہوں نے بتایا کہ صحت

عامہ کی عالمی تنظیم کے سروے کے مطابق 45 سے 50 فی صد خواتین اور 20 سے 25 فی صد مرد ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی فلمیں نہ دیکھنے دیں جن میں خودکشی کرنے کے سین دکھائے جارہے ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…