بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

انسانی غذا سے دنیا کو بھاری نقصان ہورہا ہے : تحقیق

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) تحقیق کے مطابق انسانی غذا کی تیاری اور استعمال کرنے کا طریقہ کار جلد تبدیل ہونا چاہیے تاکہ دنیا میں ہونے والی لاکھوں ہلاکتوں اور دیگر ہونے والے نقصان سے بچا جاسکے۔ لانسیٹ کے میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس ہدف کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یونیورسٹی آف لندن اور تحقیق کے شریک مصنف ٹم لانگ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تباہ کن صورتحال کا سامنا ہے‘۔

فی الوقت تقریباً ایک ارب افراد بھوک کا شکار ہیں جبکہ دیگر 2 ارب وافر مقدار میں غلط غذا کا استعمال کر رہے ہیں جس سے موٹاپا، دل کی بیماریاں اور ذیابطیس کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ واضح رہے کہ حال ہی میں شائع ہونے والی گلوبل ڈیزیز برڈن رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ صحت کے لیے نقصان دہ غذا سے ہر سال تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ اموات ہوتی ہیں، جنہیں روکا جاسکتا ہے۔ عالمی سطح پر غذا کا نظام گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جس سے بائیو ڈائیورسٹی نقصانات ہوتے ہیں اور یہ ساحلوں اور زمین پر پانی کے راستوں پر خطرناک الجی کی افزائش کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ زراعت، جس نے دنیا کی آدھی زمین کو تبدیل کیا ہے، عالمی سطح پر صاف پانی کا 70 فیصد حصہ استعمال کرتا ہے۔ پوسٹ ڈیم انسٹیٹیوٹ برائے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے ڈائریکٹر جوہان روک اسٹروم کا کہنا تھا کہ 2050 میں 10 ارب افراد کے غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمیں صحت مند غذا اپنانی ہوگی اور ماحول پر اثرات کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجیز پر سرمایہ کاری بھی کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کام کیا جاسکتا ہے اور اس کے لیے عالمی سطح پر زراعت میں انقلاب لانے کی ضرورت ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نہیں کہتے کہ سب کو ایک جیسی غذا لینی چاہیے تاہم امیروں کو گوشت اور دودھ سے بنی چیزیں کم استعمال کرکے سبزیاں کھانے میں اضافہ کرنا چاہیے‘۔ انسانی غذا کے مطابق ایک دن میں 7 گرام لال گوشت کا استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ ایک برگر میں 125 سے 150 گرام گوشت موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے گوشت کے زیادہ استعمال کو اس کا اصل ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ جانور زمین کو گرم رکھنے والے میتھین دینے کے علاوہ کاربن کو جذب بھی کرتے ہیں۔ روک اسٹورم کا کہنا تھا کہ ’ماحول کے لیے ہم جانتے ہیں کہ کوئلہ سب

سے بُرا فیول ہے اور اس ہی طرح غذا میں دیکھا جائے تو کوئلہ کے برابر سب سے بُرا گوشت ہے‘۔ ایک کلو گوشت بنانے کے لیے تقریباً 5 کلو اناج درکار ہوتا ہے اور ایک دفعہ یہ گوشت پکنے کے بعد پلیٹ میں جاتا ہے تو اس میں سے 30 فیصد حصہ کچرے کی نظر ہوجاتا ہے۔ انسانی غذا کے مطابق ایک روز میں ایک کپ دودھ یا اتنی ہی مقدار میں پنیر یا دہی کا استعمال کرسکتے ہیں اور ایک ہفتے میں ایک یا 2 انڈے کھائے جاسکتے ہیں۔ انسانی غذا

میں سبزیوں کے علاوہ دالیں، پھل اور خشک میوہ جات کے استعمال میں 100 فیصد اضافے کا بھی کہا گیا۔ خیال رہے کہ اناج کو کم غذائیت والی غذا تصور کیا جاتا ہے۔ لانسیٹ کے ایڈیٹر ان چیف رجرڈ ہارٹن کا کہنا تھا کہ ’دنیا کے وسائل کو برابری کی بنیاد پر تقسیم کیے بغیر ہم اپنی آبادی کو مزید نہیں کھلا سکیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ 2 لاکھ سال کی انسانی تاریخ میں ہم پہلی مرتبہ دنیا اور قدرت سے مطابقت اختیار کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…