ہفتہ‬‮ ، 18 اپریل‬‮ 2026 

موٹاپے کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

برطانیہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بہت زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپا مختلف امراض سے موت کا خطرہ توقعات سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسین کی تحقیق کے دوران 36 لاکھ افراد کے ڈیٹا کا

جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا۔ موٹاپا ان 10 خطرناک امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن افراد کا جسمانی وزن یا بی ایم آئی 25 سے زیادہ ہوتا ہے ان میں کینسر، ذیابیطس، امراض قلب سے لے کر متعدد امراض سے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں اضافہ ویسے بھی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے مگر اب تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی تھی کہ موٹاپا کن وجوہات کی بناءپر بے وقت موت کا باعث بن سکتا ہے۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپا ہر قسم کے امراض اور ٹریفک حادثات کے نتیجے میں موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ موٹاپا کم ہو تو چربی کہاں جاتی ہے؟ 25 کے بعد بی ایم آئی میں ہر بار 5 یونٹ کا اضافہ کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ صحت مند افراد کا جسمانی وزن 18.5 سے 24.9 بی ایم آئی کے درمیان ہوتا ہے اور ان میں مختلف جان لیوا امراض کا خطرہ بھی بہت کم ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے لانسیٹ ڈائیبیٹس اینڈ Endocrinology جرنل میں شائع ہوئے۔



کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…