ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

دنیا بھر میں تقریباُ 42 کروڑ جبکہ پاکستان میں کتنے کروڑآبادی شوگر کے مرض میں مبتلاہے، جان کر آپ کے ہوش اڑ جائینگے ،نیشنل ڈیٹا بیس سروے آف پاکستان نے رپورٹ جاری کر دی،تشویشناک صورتحال

datetime 18  جولائی  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) دوسرے نیشنل ڈیٹا بیس سروے آف پاکستان میں انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت ملک میں مجموعی طور پر 2.7 کروڑ افراد شوگر کے مرض میں گرفتار ہیں جبکہ دنیا بھر میں تقریباُ 42 کروڑ افراد اس مرض کا شکارہیں۔ دنیا بھر میں اس بیماری میں اضافے کو روکنا تقریباُ ناممکن ہو چکا ہے لیکن ہمیں ہر ممکن کوشش کر کے اس کی بڑھتی ہوئی رفتار کو لگام دینا ہو گی۔

دنیا بھر میں ذیابیطس ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔اس بات کا انکشاف پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل کے سروے رپورٹ 2016-17میں کیا گیا ، پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل نے اپنے معاونین کے ساتھ ملکر قومی دیابیطس سروے 2016-17کیا اور اس سروے کی کتاب کے رونمائی کی، سروے کے اعدادوشمار بہت ہی خطرناک ہیں سروے میں گزشتہ سروے کی نسبت 3 گنا اضافہ پایا گیا گزشتہ سروے جو کہ 1994 -98 میں ہوا ذیابیطس کی شرح 8.7 فیصد تھی جو کہ بڑھ کر 26.3 فیصد ہو چکی ہے۔ اس سروے کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر 2.7 کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ نوجوانوں میں ذیابیطس کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس عمر میں خاندانی اور معاشی ذمہ داریاں سنبھالنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ماہرین کے مطابق سروے کے خطرناک اعدادوشمار کے باوجود ہم میں صلاحیت ہے کہ ہم اس بیماری کی روک تھام کریں۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ جب ہم صحت مند طرز زندگی جس میں مناسب کھانا اور جسمانی ورزش کا پیغام پورے ملک میں عام کریں۔ لیکن ہمیں زیادہ توجہ بچوں اور نوجوانو ں پر دینی چاہیئے تاکہ وہ جسمانی ورزش اور کھیل سے مستفید ہو سکیں۔ ترقی پذیر ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس بڑھتی ہو ئی بیماری کا مقابلہ کریں۔ اس ضمن میں یہ ضروری ہے کہ صحت کا عملہ لوگوں کو اس بیماری کے

متعلق اور بچاؤ کے بارے میں آگاہ کریں۔مقررین کے مطابق ذیابیظس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کے ہر فرد اپنی صحت کا خیال کرے اور صحت مندانہ طرزِ زندگی اپنا کر بیماری سے پاک زندگی گزاریں۔اسی طرح صحت کے عملے کا فرض ہے کہ ذیابیطس کے حوالے سے لوگوں کی رہنمائی کریں اور ان میں آگاہی پیدا کریں۔اور خاص طور پر گورنمنٹ مؤثر پالیسیاں مرتب کرے تاکہ شہری

اس بیماری سے بچ سکیں۔ تقریباُ پاکستان کے ہر خاندان میں ذیابیطس کے مریض موجود ہیں۔ چھوٹے بچوں میں صحت مندانہ خوراک کا استعمال اس بات کی ضمانت ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں بیماریوں سے محفوظ رہیں گی۔ ذیابیطس کے حوالے سے درست اعدادوشمار جمع کرنے پر پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل اور اس سروے میں ان کے معاونین کو مبارکباد پیش کی گئی۔ اور ایسے اقدامات کرنے کا اعادہ کیا گیا جن سے ذیابیطس کی روک تھام ممکن ہو سکے اور اس بات کی امید کی گئی کہ پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل اس ضمن میں اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔ (م ،ع)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…