بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کیا آپ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہیں؟

datetime 21  جون‬‮  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ رات کو دیر تک جاگنے کے عادی ہیں؟ اگر ہاں تو یہ عادت موٹاپے کا شکار بنانے کے لیے کافی ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ امریکا کی نارتھ ویسٹرن میڈیسین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ صحت مند فرد کے لیے 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے مگر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنے کے نتیجے میں نیند کی کمی کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

رات گئے تک جاگنا فائدہ مند یا نقصان دہ؟ تحقیق میں بتایا گیا کہ رات گئے تک جاگنے کے نتیجے میں لوگ ایسی غذائیں کھانے لگتے ہیں جو جسم کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ موٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔ اسی طرح نیند کی کمی چڑچڑا پن، ذہنی توجہ مرکوز نہ کرنے اور ڈپریشن کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ تاہم محققین کا کہنا تھا کہ رات گئے سونے سے جسم میں کورٹیسول نامی ہارمونز کی سطح بڑھتی ہے جو کہ جسمانی وزن میں اضافے کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رات گئے تک جاگنے اور 8 بجے کے بعد کھانا بھی موٹاپے کا خطرہ بڑھانے والے عناصر ہیں۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ رات کا کھانا بھی کافی تاخیر سے کھاتے ہیں، جبکہ ایسے لوگ پھلوں اور سبزیوں کو زیادہ پسند نہیں کرتے بلکہ جنک فوڈ اور سوڈا جیسے مشروبات کے شوقین ہوتے ہیں۔ ایک عادت جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے اس تحقیق کے دوران 50 سے زائد رضاکاروں کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 23 رات گئے تک جاگنے کے عادی تھے۔ رات گئے تک جاگنے والے عام طور پر صبح پونے 4 بجے تک سونے اور صبح پونے 11 بجے تک جاگنے کے عادی تھے، یعنی ناشتہ دوپہر میں، کھانا سہ پہر میں جبکہ رات کا کھانا 10 بجے کے بعد کھاتے تھے۔ محققین نے بتایا کہ کھانے اور سونے کے اوقات جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…