منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

وٹامن ڈی کی کمی کے باعث ہونے والی بیماریاں

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ہمارے جسم کو صحت مند رہنے کے لیے مختلف وٹامنز اور معدنیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہی میں سے ایک وٹامن ڈی بھی ہے جس کے حصول کا سب سے آسان ذریعہ سورج کی روشنی ہے۔وٹامن ڈی ہماری ہڈیوں کی مضبوطی اور اعصاب کی نشونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کی کمی ہمارے جسم کو سخت

ناقابل تلافی نقصانات پہنچا سکتی ہے۔ یہ وٹامن کچھ غذاؤں جیسے مچھلی، اورنج جوس، پنیر اور انڈے کی زردی وغیرہ میں بھی موجود ہوتا ہے لیکن اسے صرف ان غذاؤں کی مدد سے مکمل طور پر حاصل کرنا ناممکن ہے۔جسم کو درکار وٹامن ڈی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے سپلیمنٹس سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی ہمارے اندر بہت سے طبی مسائل پیدا کرسکتی ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔ وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ یہ ہڈیوں میں کیلشیئم کو جذب ہونے میں مدد دیتا ہے جس سے ہڈیوں کی نشونما میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کی کمی کمر، جوڑوں اور گھٹنوں وغیرہ میں درد کا سبب بن سکتی ہے جو اس قدر شدید ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے روزمرہ کے کام انجام دینے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔وٹامن ڈی کی کمی جسم میں پسینہ کے غدود کو فعال کرتی ہے جس سے زیادہ پسینہ آتا ہے۔ یہ علامت نومولود بچوں میں بھی پائی جاسکتی ہے۔اگر کسی شخص یا بچے کو بہت زیادہ پسینہ آرہا ہے تو یہ وٹامن ڈی کی کمی کی علامت ہے اور ایسی صورت میں فوری طور پر اس کے تدارک کی ضرورت ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی خون کے بہاؤ کی رفتار کو کم کرتی ہے جس سے ایک طرف تو اعصاب اور پٹھوں کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب دماغ کی طرف خون کا کم بہاؤ ڈپریشن، مایوسی اور اداسی کے جذبات پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔بالوں کا تیزی سے جھڑنا ذہنی دباؤ کے باعث ہوتا

ہے تاہم وٹامن ڈی کی کمی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ خواتین میں خاص طور پر بال جھڑنے کی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہی ہے۔وٹامن ڈی کی کمی پٹھوں میں درد اور الرجی کا سبب بھی بن سکتی ہے جو جلد کو زخمی بھی کرسکتی ہے۔ ایسے افراد سپلیمنٹس کے ذریعے وٹامن ڈی کی کثیر مقدار لے کر اس تکلیف سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…