پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

فضائی آلودگی ہڈیوں کی کمزوری اور قبل ازوقت موت کی وجہ بن سکتی ہے

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

نیویارک (نیوز ڈیسک) فضائی آلودگی سانس، دل اور دیگر امراض کی وجہ تو بنتی ہی ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ آلودہ علاقوں میں رہنے سے ہڈیوں کی کمزوری اور گٹھیا کا مرض بھی لاحق ہوسکتا ہے اور انسان وقت سے قبل موت کی آغوش میں جاسکتا ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے میلمن اسکول آف پبلک ہیلتھ نے اس ضمن میں شمال مشرقی

امریکہ سے 90 لاکھ افراد کے ڈیٹا کا احتیاط سے موازنہ کیا ہے ۔ اپنی نوعیت کی اس واحد اسٹڈی میں انہوں نے کہا ہے کہ ٹریفک کا دھواں ہڈیوں کو کمزور کرکے فریکچر اور گٹھیا کی وجہ بن رہا ہے۔ سائنسداں اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ فضائی آلودگی پیراتھائرائیڈ ہارمون پر اثر انداز ہوتی ہے جو کیلشیئم کی پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے ۔ اس طرح کیلشیئم کم بنتا ہے ہڈیاں بھربھری ہوکر کمزور ہوتی رہتی ہیں ۔ اس طرح مریض بار بار فریکچرکا شکار ہوتا ہے اور اسے ہسپتال داخل کرنا پڑتا ہے۔ اس سے قبل یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ٹریفک کےدھویں سے بھرپور علاقوں کےلوگ فالج، امراضِ قلب، پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں ، دمے اور ڈیمنشیا جیسے مرض کے شکار ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس مطالعے سے پہلی مرتبہ یہ ثابت ہوا ہے کہ آلودگی اب ہڈیوں کی بھی دشمن ہے۔کولمبیا یونیورسٹی کی ماہر ڈاکٹر آندرے بیکرالی کہتے ہیں کہ اب ثابت ہوچکا ہے کہ ہواؤں میں گھلی ہوئی آلودگی ہڈیوں کے لیے بھی یکساں طور پر تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اور صاف ہوا میں رہنا خود بہت سے فوائد کے ساتھ ہڈیوں کےلیے بھی مفید ہوتا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ سروے میں شامل جن افراد کی ہڈیوں میں فریکچر ہوا وہ ایسے علاقوں میں رہائش پذیر تھے جہاں پی ایم 2.5 ذرات کی مقدار غیرمعمولی طور پر ذیادہ تھی۔ سروے ظاہر کرتا ہے کہ یہ ذرات بہت باریک ہوتے ہیں اور جسم میں داخل ہوکرہڈیوں میں اترکر اسے کمزور کردیتے ہیں اور

PM2.5 بزرگ افراد میں ہڈیوں کے ٹوٹنے کی وجہ بن رہا ہے۔ یہ تحقیق بین الاقوامی جریدے لینسٹ میں شائع ہوئی ہے جس میں 92 لاکھ افراد شامل کیے گئے ہیں جن میں درمیانی عمر اور بزرگ افراد موجود تھے۔ جن علاقوں میں پی ایم 2.5 اور سیاہ (بلیک) کاربن کی زائد مقدار تھی وہاں کے لوگوں میں پیراتھائیرائیڈ ہارمون کم تھا ۔ یہ ہارمون

کیلشیئم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کی کمی سے کیلشیئم کم ہوتا جاتا ہے اور ہڈیاں نرم ہوکر کمزور پڑتی جاتی ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہڈیاں کمزور ہونے اور بار بار فریکچر سے موت کا امکان 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اور یوں بوڑھے لوگوں کی زندگی معذوری کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…