منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی ڈاکٹر مریضوں کو سب سے کم وقت دیتے ہیں

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایک بین الاقوامی سروے میں یہ دلچسپ موازنہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے معالجین اپنے مریضوں کو باقی دنیا کے مقابلے میں سب سے کم وقت دیتے ہیں۔ جبکہ سویڈن ، امریکا اور برطانیہ مریضوں کو تسلی سے دیکھتے ہوئے انہیں سب سے ذیادہ وقت دیتے ہیں۔ اس سروے میں 15 بڑے ممالک

شامل ہیں جہاں دنیا کی نصف کے قریب آبادی رہتی ہے اور وہاں کے ڈاکٹر اپنے مریضوں کو اوسطاً 5 منٹ ہی دیکھ پاتے ہیں ۔ امریکی ڈاکٹر اپنے مریضوں کو تفصیل سے دیکھتے ہیں اور اوسطاً ایک مریض کے حصے میں 20 منٹ آتے ہیں جبکہ برطانیہ میں دس منٹ لیکن یہ شرح سویڈن میں سب سے ذیادہ یعنی 22 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔ بھارت جو ایک بڑا ملک ہے وہاں آبادی کے اژدہام کی وجہ سے ایک ڈاکٹر مریض کو بمشکل دو منٹ ہی دے پاتا ہے اور بنگلہ دیش میں یہ شرح کم ترین یعنی 48 سیکنڈ ہے اور پاکستان یہ شرح دو منٹ بھی نہیں یعنی ہمارے ملک میں ایک ڈاکٹر مریض کو 1.79 منٹ ہی دے پاتا ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ پہلا بین الاقوامی سروے نہ صرف بڑی آبادی والے ممالک میں صحت کا حال بیان کرتا ہے بلکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے جس ملک میں ڈاکٹر مریضوں کو سب سے کم وقت دیتے ہیں وہاں صحت و معالجے کی صورتحال بہت خراب ہے جس کا براہِ راست تعلق ڈاکٹر کے وقت اور دلچسپی سے ہے۔ یہ سروے ممتاز طبی جریدے ’برٹش میڈیکل جرنل‘ (بی ایم جے) میں شائع ہوا ہے۔ ماہرین نے اپنی اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ مریضوں کے لیے کم ہوتا وقت صحت کی ناکافی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن یہ زیادہ آبادی اور کم ڈاکٹروں والے ممالک میں طبی معائنہ اور وقت میں کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے جس کا فی الحال کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔ ماہرین نے اس اہم مطالعے کے لیے 67 ممالک کے 178 سروے کا

جائزہ لیا اور کل 28 کروڑ سے زائد کنسلٹیشنز (ڈاکٹروں سے مریضوں کی ملاقات) کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تاہم بھارتی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد کی بنا پر کم وقت کی بات درست ہوسکتی ہے کیونکہ ایک سے دو گھنٹے میں ڈاکٹر کو 100 سے

زائد مریضوں کو دیکھنا ہوتا ہے۔ لیکن دیگر پرائیوٹ ہسپتالوں میں یہ صورتحال بہتر ہے۔ سروے کے مصنفین نے کہا ہے کہ صرف اوسط دو منٹ یا پانچ منٹ میں ڈاکٹر مریض کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا اور اس سے علاج کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے اور وسائل بھی خرچ ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…