منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

بغیر گولی جسم کے کسی بھی حصے میں درد سے چھٹکارے کا آسان اور آزمودہ نسخہ

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جسم کے کسی بھی حصے میں درد ہو تو سب سے پہلے یا تو اسے دبانے کا خیال ذہن میں آتا ہے یا پھر کوئی نہ کوئی درد کش دوا کھائی جاتی ہے تاکہ تکلیف دور ہو جائے ۔ تاہم حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے بالکل الگ اور نیاطریقہ متعارف کروایا ہے جس سے درد میں کوئی بھی دوا کھائے بغیر کمی کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کہ کسی بھی قسم کے درد سے نجات کے لیے آسان سا نسخہ یہ ہے کہ اپنے ہاتھ کندھوں پر باندھ لیں۔

ذہن کو کنفیوز   کرنے کا یہ عمل درد میں حیرت انگیز طور پر آرام دیتا ہے۔ ایک مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ہاتھ باندھ لینے سے ذہن کنفیوز ہو جاتا ہے اور توجہ درد سے ہٹ جاتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دماغ کا دایاں حصہ جسم کے دائیں حصے اور بایاں حصہ جسم کے بائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن جب ہم ہاتھ باندھتے ہیں تو دماغ کا یہ سسٹم کچھ کنفیوز ہو جاتا ہے اور درد کے احساس میں کمی آجاتی ہے۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ ہاتھ کے درد میں اس تکنیک پر عمل کرنے کے بعد یہ نظریہ قائم کیاگیا ہے ۔ تاہم ابھی جسم کے دیگر حصوں میں درد کے حوالے سے یہ تجربہ نہیں کیا گیا ۔ درد اور ہاتھ باندھنے کے درمیان تعلق پر یہ ریسرچ پین جرنل شائع ہوئی ہے۔ ماہرین طب نے کہا کہ یہ نسخہ سب سے زیادہ اس وقت کام آتا ہے جب اگر آپکا ہاتھ جل جائے یا بازو ‘ہاتھ پر کوئی زخم ہو جائے توہاتھوں کو باندھ لیں ‘ آپ کو فوری طور پر درد میں ریلیف ملے گا۔ یہ تحقیق یونیورسٹی کالج آف لندن کے تحقیق یونیورسٹی کالج آف لندن کے محققین کی جانب سے کئی گئی ہے جنوں نے چار ملی سیکنڈز میں آٹھ افراد کے ہاتھوں میں سوئیاں چبھوئیں۔ یہ ٹیسٹ دو باررہ باندھے ہوئے ہاتھ یا بازؤں کے ساتھ دہرایا گیا ۔ ماہرین نے دیکھا کہ پہلے ٹیسٹ کے دوران ان افراد کو زیادہ تکلیف محسوس ہوئی اور دماغ کا درد محسوس کرنے والا حصہ بھی زیادہ متحرک ہوا جبکہ ایسا ہی جب باندھے ہوئے بازوؤں کے ساتھ دہرایا گیا تو دماغ کے تکلیف محسوس کر نے والے حصوں میں کشمکش پائی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…