پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

اگلے بیس برسوں میں نابینا افراد کی تعداد تین گنا ہو جائے گی

datetime 5  اگست‬‮  2017 |

نئی دہلی ( آن لائن )بصارت کے مسائل سے متعلق ایک تازہ تحقیق میں یہ انکشاف ہو ا ہے کہ نابینا افراد کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافے کی وجہ آبادی اور انسانی عمر میں اضافہ ہے۔دنیا میں اس وقت نابینا افراد کی تعداد تقریباً تین کروڑ 60 لاکھ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2050 میں یہ تعداد تین گنا بڑھ کر 11 کر وڑ 50 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔بصارت کے مسائل سے متعلق جاری ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نابینا افراد کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافے کی وجہ آبادی اور انسانی عمر میں اضافہ ہے۔

اسی طرح ایسے افراد جن کی نظر درمیانی یا زیادہ کمزور ہے اور جسے عینک، یا کنٹیک لینسز یا آپریشن کے ذریعے درست نہیں کیا گیا ہے، ان کی تعداد بھی اس مدت کے دوران 21 کروڑ 70 لاکھ سے بڑھ کر 58 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق افریقہ اور ایشیائی ملکوں سے ہوگا جہاں غربت کی فراوانی اور تعلیم کی کمی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ آبادی کے مقابلے میں بینائی سے محروم افراد کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔ سن 1990 میں یہ تعداد 0.75 فی صد تھی جو 2015 میں گھٹ کر 0.48 رہ گئی۔اسی طرح نظر کی درمیانی پیمانے سے زیادہ درجے کی خرابی کا تناسب بھی کم ہوا ہے۔ 1990 سے 2015 کی مدت کے دوران یہ شرح 3.83 سے کم ہو کر 2.9 ہو گئی ہے۔اس مطالعے کے شریک مصنف روپرٹ بورنی نے، جن کا تعلق اینگلا رسکن یونیورسٹی سے ہے، خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ نظر کی کمزوری اور دیگر خرابیوں میں مبتلا افراد کی تعداد میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں صحت کی سہولتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں نابینا افراد کی تعداد میں اضافے کا سبب یہ ہے کہ نہ صرف آبادی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا بلکہ عمریں لمبی ہونے سے معاشرے میں بوڑھوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی۔ نظر کی کمزوری اور بصارت کی اکثر بیماریاں اور مسائل عموماً بڑی عمر میں پیش آتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…