منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

اگلے بیس برسوں میں نابینا افراد کی تعداد تین گنا ہو جائے گی

datetime 5  اگست‬‮  2017 |

نئی دہلی ( آن لائن )بصارت کے مسائل سے متعلق ایک تازہ تحقیق میں یہ انکشاف ہو ا ہے کہ نابینا افراد کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافے کی وجہ آبادی اور انسانی عمر میں اضافہ ہے۔دنیا میں اس وقت نابینا افراد کی تعداد تقریباً تین کروڑ 60 لاکھ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2050 میں یہ تعداد تین گنا بڑھ کر 11 کر وڑ 50 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔بصارت کے مسائل سے متعلق جاری ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نابینا افراد کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافے کی وجہ آبادی اور انسانی عمر میں اضافہ ہے۔

اسی طرح ایسے افراد جن کی نظر درمیانی یا زیادہ کمزور ہے اور جسے عینک، یا کنٹیک لینسز یا آپریشن کے ذریعے درست نہیں کیا گیا ہے، ان کی تعداد بھی اس مدت کے دوران 21 کروڑ 70 لاکھ سے بڑھ کر 58 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق افریقہ اور ایشیائی ملکوں سے ہوگا جہاں غربت کی فراوانی اور تعلیم کی کمی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ آبادی کے مقابلے میں بینائی سے محروم افراد کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔ سن 1990 میں یہ تعداد 0.75 فی صد تھی جو 2015 میں گھٹ کر 0.48 رہ گئی۔اسی طرح نظر کی درمیانی پیمانے سے زیادہ درجے کی خرابی کا تناسب بھی کم ہوا ہے۔ 1990 سے 2015 کی مدت کے دوران یہ شرح 3.83 سے کم ہو کر 2.9 ہو گئی ہے۔اس مطالعے کے شریک مصنف روپرٹ بورنی نے، جن کا تعلق اینگلا رسکن یونیورسٹی سے ہے، خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ نظر کی کمزوری اور دیگر خرابیوں میں مبتلا افراد کی تعداد میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں صحت کی سہولتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں نابینا افراد کی تعداد میں اضافے کا سبب یہ ہے کہ نہ صرف آبادی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا بلکہ عمریں لمبی ہونے سے معاشرے میں بوڑھوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی۔ نظر کی کمزوری اور بصارت کی اکثر بیماریاں اور مسائل عموماً بڑی عمر میں پیش آتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…