منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ناشتہ ترک کرنے والے لوگوں خبردار ۔۔ کس خطرناک بیماری میں مبتلا ہو نے کا خدشہ ؟ جان کر کانوں کو ہاتھ لگائیں گے

datetime 5  جولائی  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کھانا اللہ پاک کی ایک نعمت ہے اور کفران نعمت کسی طرح بھی درست نہیں ۔ تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ ناشتہ ترک کرنیوالے افراد میں امراضِ قلب اور فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس سلسلے میں ایک لاکھ 30 ہزار افراد کا مطالعہ کیا گیا سروے سے معلوم ہوا کہ ہفتے کے دنوں میں جو لوگ زیادہ دن تک ناشتہ ترک کرنے کا معمول بناتے ہیں وہ فالج کے زیادہ شکار ہوسکتے ہیں اور اسی لیے ڈاکٹر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی صورت میں ناشتے کو نظرانداز نہ کیا جائے۔مطالعے میں شامل ایک لاکھ سے زائد افراد میں سے 3,772 کو فالج اور 870 کو دل کے امراض لاحق ہوئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر 100 افراد اکثر ناشتہ چھوڑدیں تو ان میں سے 20 فالج یا دل کے عارضے کے شکار ہوئے۔ یہ تحقیق اوساکا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے جس میں لوگوں کی جسمانی صحت کا بہت قریب سے جائزہ لیا گیا ہے۔ابتدائی اندازوں کے مطابق اگرناشتہ چھوڑنے کی عادت بنالی جائے تو مضر کولیسٹرول دھیرے دھیرے بڑھنے لگتا ہے اوربلڈ پریشرمیں اضافہ ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں کیفیات شدت اختیارکر لیں تو مرض لاحق ہوجاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…