منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں خوفناک بیماری نے سر اٹھا لیا, روزانہ کتنے افراد شکار ہونے لگے ، جان کر ہوش اڑ جائیں گے

datetime 17  مئی‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی) پا کستا ن میں منہ کے کینسر کے مریضوں میں تیزی سے اضا فہ ہو رہا ہے، جس کی بنیا دی وجہ چھا لیہ، گٹکا، مین پوری، نسوار اور تمباکو شامل ہیں ، ان خیا لات کا اظہار ڈا کٹر محمد علی میمن ڈائر یکٹر ایند کلینکل آ نکا لو جسٹ اٹا مک انر جی میڈیکل سینٹر (AEMC) نے میمن پرو فیشنل فو رم کے زیراہتمام JMA سیکنڈری اسکول میں منہ کے کینسر کے آ گا ہی سیمنار سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا،

اس مو قع پر مہما ن خصو صی رفیق رنگون وا لا، ڈا کٹر سا ئرہ بانو اور میمن پرو فیشنل کے صدرعبد الجبار را ٹھور اور مصطفی حنیف بھی مو جو د تھے۔ڈا کٹر محمد علی میمن نے کہا کہ چھا لیہ ایک زہر ہے جسے ہم خو د در آ مد کر رہے ہیں شہر میں تقریباََ 100سے زیا دہ چھا لیہ کے برا نڈ مو جو د ہیں جبکہ رو زا نہ 6سے8من گٹکا فروخت ہو تا ہے جو نو جوا نوں کو منہ کے کینسر میں مبتلا کر رہا ہے اس سلسلے میں قوا نین تو مو جود ہیںلیکن ان پے عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ابھی حال میں ہی سٹی گورنمٹ نے گٹکے پر پا بندی لگا نے کی کو شش کی ہے جس کے اچھے نتا ئج آ ئینگے، لیکن حکو مت کو چا ہیئے کہ چھا لیہ کی در آ مد پر پابندی لگا ئی جائے، ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ 70سے 75فیصد منہ کا کینسر چھا لیہ ، گٹکا اور مین پوری سے ہو تا ہے، جبکہ تمباکو، شیشیہ، نسوار اور شراب سے بھی منہ کا کینسر ہو تا ہے، ہمارے پا س زیا دہ تر کیسز ہو نٹ، ز بان اور مسوڑوں کے آ تے ہیں انہو ں نے کہا کہ نو جوا ن شیشہ پینا تفریح سمجھتے ہیںلیکن یہ بھی کینسر کا با عث بنتا ہے، شیشہ کے کینسر بھی بہت زیا دہ آ تے ہیں، عا لمی ادارہ صحت کی ایک رپور ٹ کے مطا بق ایک گھنٹہ شیشہ پینا یا اس جگہ مو جو د رہنا جہاں شیشہ پیا جا رہا ہو 200سیگریٹ پینے کے برا بر ہے جبکہ اگر چھا لیہ سا نس کی نا لی میں چلی جائے تو انسان کی فی الفور

موت وا قع ہو جا تی ہے۔ڈا کٹر سا ئرہ با نو نے کہا ہے کہ منہ کا کینسر و با ئی مر ض کی صو رت اختیار کر تا جا رہا ہے اور ہما ری نو جوان نسل اس سے متا ثر ہو رہی ہے اس لئے اس کو فو راََ رو کنے کی ضرورت ہے انہو ں نے کہا کہ اگر منہ کے کینسر کو ختم کر نا ہے تو چھا لیہ پر پا بندی لگا نی ہو گی اور چھا لیہ کی تشہیر اور اس کی تیا ری پر بھی پا بندی لگا ئی جا ئے اور عوا م الناس میں چھا لیہ اور منہ کے کینسر سے

متعلق ایسے ہی آ گا ہی پرو گر ا م منعقد کئے جا ئیں۔آ خر میں مہما ن خصو صی رفیق رنگون وا لانے کہا کہ اگر ہم اپنی ذمہ داری کا احساس کر یں اور ایک دو سرے کا خیا ل رکھیں کہ چھا لیہ گٹکا رغیرہ سے احتیاط کریں تو کا فی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ میمن پرو فیشنل فورم کے صدر عبدالجبار را ٹھور نے کہا کہ ہم اپنے میمن پرو فیشنل فورم کے منشور کے مطا بق اسکول، کا لج بلکہ اب یو نیور سٹی وغیرہ میں بھی ایسے آ گا

ہی پرو گرا م منعقد کر یں گے اور معا شر ے میں ایسے نا سو ر مر ض کینسر کے خلاف جہا د جا ری ر کھیں گے اور صحت مند معاشرہ بنا نے میں اپنا پو را کر دار ادا کر یں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…