منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

دانت کی تکلیف سے نجات بس ایک چھوٹی سی چیز کی دوری پر

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

نیویارک(نیوز ڈیسک) انسانی جسم کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ جسم کا ایک بھی حصہ اگر تکلیف میں ہو تو پورا جسم تکلیف میں محسوس ہوتا ہے اسی طرح دانت میں درد ہوجائے تو ہمیں کافی مشکل ہوتی ہے اور ہم کئی طرح کی ادویات کا استعمال کرنے لگتے ہیں

لیکن اگر آپ کے دانت میں تکلیف ہوتو ذیل میں بتایا گیا قدرتی نسخہ ضرور آزمائیں۔2006ءمیں Journal of Dentistryمیں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گھر پر بنایا ہوالونگ کا تیل یا جیل benzocaine 20%کی طرح کی طاقتور اور سائیڈ افیکٹ سے پاک ہے۔اس کے استعمال سے دانت کی درد ٹھیک ہوجاتی ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لونگ کا تیل انٹی بیکٹیریل خصوصیات رکھتا ہے جس کی وجہ سے سوزش میں خاطر خواہ کمی ہوتی ہے ،دانت کا فنگس بھی ٹھیک ہوتا ہے اور ساتھ ہی درد میں خاطر خواہ کمی ہوتی ہے۔لونگ کے تیل کو استعمال کا طریقہیاد رہے کہ لونگ کا تیل بہت زیادہ تیز ہوتا ہے جس کی وجہ سے منہ کی حساس جلد پر بہت زیادہ چبھن ہوتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ اسے زیتون کے تیل میں ملاکر استعمال کیا جائے۔ایک چمچ لونگ کا تیل لیں اور اس میں دو چمچ زیتون کا تیل ڈالیں۔اب اس محلول کو پہلے اپنے ہاتھ کی جلد پر لگائیں اور اگر چبھن کم ہوتو اسے پھر اس دانت پر روئی کی مدد سے لگائیں جس میں درد ہورہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…