منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

بولنے میں مشکلات کا شکار بچوں کے لیے جدید تھراپی

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں بولنے کے دوران مشکلات کا شکار بچوں کی مدد کے لیے بولو ٹیک نامی اسپیچ تھراپی پلیٹ فارم تیار کرلیا گیا۔ یہ پلیٹ فارم دو نوجوان طالبات نے تیار کیا ہے۔کراچی کی ایک نجی جامعہ میں زیر تعلیم دو طالبات شانزہ خان اور رباب کا تعلیمی مقاصد کے لیے بنایا جانے والے یہ پلیٹ فارم ان بچوں اور بڑوں

کے لیے امید کی کرن ہے جو بولنے میں مشکل کا شکار ہوتے ہیں۔لفظوں کو ان کے صحیح مخرج یا تلفظ سے ادا نہ کر پانا ایک بیماری ہے جسے ڈیسرتھریا Dysarthria کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری اس وقت سامنے آتی ہے جب گفتگو میں مدد دینے والے خلیات تباہ ہوجائیں۔خلیات کی خرابی کا یہ عمل دماغ یا اعصاب کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سامنے تا ہے۔ بعض اوقات یہ مرض پیدائشی ہوتا ہے اگر پیدائش کے وقت کسی پیچیدگی کے باعث بچے کے دماغ کو کوئی نقصان پہنچ جائے۔اسی طرح کسی خطرناک حادثے، فالج، شدید دل کے دورے، سر یا گردن کو لگنے والی خطرناک چوٹ کی صورت میں بھی دماغ کو نقصان پہنچتا ہے جس سے بولنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔بولو ٹیک نامی یہ پلیٹ فارم جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں اور بڑوں کو اسپیچ تھراپی میں مدد دیتا ہے اور وہ بہتر طور پر جان سکتے ہیں کہ کس لفظ کو کس طرح ادا کیا جانا چاہیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…